منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چھوٹو گینگ کیخلاف بغیر منصوبہ بندی آپریشن کاآغاز ،آئی جی پولیس حکمت عملی سامنے لے آئے

datetime 16  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے کہا ہے کہ مشترکہ ڈیزائن کئے گئے آپریشن میں چھوٹو ڈکیت گینگ کی طرف سے یر غمال بنائے گئے اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی پہلی ترجیح ہے ، بغیر منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے آپریشن کاآغاز کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں ،اس آپریشن سے قبل افسران پر مشتمل ٹیم بنی جس نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی تربیت ،درکار اسلحہ سمیت ہر معاملے کا جائزہ لیا ،بعض اوقات چھوٹی سے بات ناکامی اور کامیابی کی وجہ بن جاتی ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ میڈیا میں بعض ایسی خبریں آ رہی ہیں جو صحیح معلومات پر مبنی نہیں اور افواہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن پوری تیاری کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا جس میں (ر)کرنل رینک کے افسران نے پلاننگ کا جائزہ لیا اور اس کیلئے ایک ہزار جونوانوں کو تربیت دی گئی اور پھر بتایا گیا کہ یہ آپریشن کے لئے تیار ہیں اور اس کے بعد حکمت عملی بنائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پکٹنگ بنائی گئیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے فرار کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اس کے بعد اس میں رینجرز کو شامل کیا اور دوسرے اداروں کی سپورٹ بھی حاصل ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں غلط ہیں کہ اس آپریشن سے قبل منصوبہ بندی اور حکمت عملی طے نہیں کی گئی ۔پولیس نے اسے خود پلان کیا اور اس میں سب اداروں کا تعاون حاصل تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کا انچارج ہوں ۔ آپریشن سے قبل افسران پر مشتمل ٹیم بنی جس نے اہلکاروں کی سلیکشن کی جس کے بعد انہیں تربیت دلائی گئی اور اسلحے سمیت دیگر معاملا ت کا جائزہ لیا اور اس میں ہمیں دیگر اداروں کا تعاون بھی درکار ہے ۔ انہوں نے ناکامی کے سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا کی بہترین آرمی بھی اٹھا لیں جتنی ان کی کامیابیاں ہیں اتنی ناکامیاں بھی ہیں ۔ ہم فاٹا میں بہترین فوج اور وسائل کے ساتھ لڑ رہے ہیں لیکن وہاں بھی ہلاکتیں ہوتی ہیں ۔ حالات میں ایڈوانٹج اور ڈس ایڈوانٹج آ سکتاہے ،بعض اوقات چھوٹی سے بات آپ کی ناکامی کا باعث بن جاتی ہے اور بعض اوقات یہی چھوٹی سے بات آپ کی کامیابی بن سکتی ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کے یر غمال بننے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ انتہائی مشکل علاقہ ہے ۔ منصوبہ بندی کے تحت اندر جانے کے لئے رسائی کا راستہ تلاش کر کے ہمارے اہلکار آگے گئے ۔وہاں ایک تو پانی کی گہرائی کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ کسی مقام پر پانی کم اور کسی مقام پر زیادہ گہرا ہے ۔جب مزاحمت نہیں ہوئی تو ہمارے جوان بہادر ی سے آگے بڑھتے گئے اور انہوں نے چار ڈاکوؤں کو مارا جبکہ چھ زخمی بھی ہو گئے اور آگے بڑھتے ہوئے اہلکار اچانک گھیرے میںآگئے ۔ اب جو مشترکہ آپریشن ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پہلی ترجیح اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…