منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

تمام سیاسی جماعتیں پانامہ لیکس کے حوالے سے قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے انکوائری کمیشن کو اختیار دیں ٗشہباز شریف

datetime 16  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک )وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پانامہ لیکس کے حوالے سے قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے انکوائری کمیشن کو اختیار دیں، پانامہ لیکس میں 200 پاکستانیوں کے معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایک بااختیار، آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیشن تشکیل د ینا چاہئے۔ایک انٹرویو میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ریٹائرڈ ججوں سے اس مسئلہ کی شفاف تحقیقات کیلئے رابطہ کیا ہے ٗ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پانامہ لیکس میں کہیں نام نہیں اس لئے ان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن بڑے لوگوں نے بینکوں سے اربوں روپے معاف کرائے ہیں ان کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نام نہاد سیاسی رہنماء جمہوری حکومت کے خلاف کسی نئے لندن پلان کی سازش کررہے ہیں تو یہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ترقی وخوشحالی اور انہیں سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ میں پنجاب کا خادم ہوں اور کسی اور بڑے عہدے کا خواہشمند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس 2018ء تک کے لئے عوامی مینڈیٹ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے بچے کسی بھی ملک میں کاروبار کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ انہوں نے شریف خاندان میں اختلافات کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے خاندان کے مخالفین کے پرانے حربے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے 2014ء میں دھرنا دے کر ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ قوم دوبارہ ایسے کسی عمل کی اجازت نہیں دے گی۔ ضرب عضب اور ضرب آہن کے حوالے سے سول و فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں اور دونوں قیادتیں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف سول اور فوج نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اورنج لائن پراجیکٹ ایک عوامی فلاح کا منصوبہ اور دوست ملک چین کی طرف سے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ کی بہتری سمیت دیگر امور پر صوبائی حکومت خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ صوبے میں عوام کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے 70 ارب روپے صرف کئے جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…