اسلام آباد (نیوزڈیسک)راجن پور میں کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن شروع ہے جس میں اب 92ایس ایس جی کمانڈوز کے ساتھ 200سے زائد فوجی جوان سمیت پاکستان رینجرز کے 300اہلکار اور پولیس کی بھاری نفری شامل ہے۔ذرائع کیمطابق ڈاکوﺅں نے فورسز کو دھوکہ دینے کیلئے یرغمالی اہلکاروں کی وردیاں خود پہن لی ہیں اور اپنے کپڑے انہیں پہنا دیئے ہیں جبکہ فورسز اور ڈاکوﺅں کے مابین فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایس ایس جی کمانڈوز کے میدان میں اترتے ہی چھوٹو گینگ سے وابستہ مجرموں نے بھاگنے کیلئے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے تحت گینگ یرغمال اہلکاروں کے بھیس میں فرار ہو نے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ 19 روز سے جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور میں دریائے سندھ پر موجود ایک جزیرے میں ڈیرہ ڈالے ایک مشہور گینگ کیخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپرشین جاری ہے۔ یہ گینگ مشہور زمانہ چھوٹو گینگ ہے۔ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کی کہانی انتہائی دلچسپ اور پراسرار ہے۔ غلام رسول راجن پور کے ایک گاوں شاہ والی کا رہائشی ہے۔غلام رسول شاہ والی کے ایک بااثر زمیندار کا مزارا تھا۔ زمیندار غلام رسول پر بے انتہائ ظلم ڈھایا کرتا تھا۔ غلام رسول ایک روز زمیندار کے ظلم سے تنگ آ کر گاوں سے بھاگ نکلا اور ایک جرائم پیشہ گینگ کا حصہ بن گیا۔ جرائم پیشہ گینگ کا حصہ بننے کے بعد غلام رسول چھوٹو کے نام سے مشہور ہو گیا۔ چھوٹو کے نام پہلا مقدمہ 1987 میں درج ہوا۔ اور پھر اس کیخلاف مقدمات درج ہونے کا سلسلہ چل نکلا۔چھوٹو نے آہستہ آہستہ اپنا اثر رسوخ بڑھایا اپنے ساتھ کئی لوگوں کو ملایا اور ایک جرائم پیشہ گینگ تشکیل دے دیا۔ اس گینگ کا نام چھوٹو گینگ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس گینگ نے راجن پور اور رحیم یار خان کے درمیان دریائے سندھ پر موجود ایک جزیرے پر قبضہ کر لیا۔ یہ جزیرہ 2 کلومیٹر طویل اور ڈھائی کلومیٹر چوڑا ہے۔ یہ علاقہ دلدلوں کے باعث کچے کا علاقہ کہلاتا ہے۔اس علاقے تک زمینی راستے سے پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ چھوٹو کا گینگ 80 سے زائد جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہے۔ اس گینگ کے پاس جدید سے جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔ یہ گینگ قتل، اغوا برائے تاوان، ڈاکہ زنی سمیت ہر قسم کے سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ اس گینگ کیخلاف گزشتہ 29 برس کے دوران پولیس کی جانب سے متعدد آپریشن کیے گئے تاہم ہر مرتبہ پولیس اس گینگ کا خاتمہ کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ہر آپریشن میں چھوٹو گینگ کا تو کچھ نہ بگڑا تاہم پولیس کو ہمیشہ بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم اب پنجاب میں دہشت گردوں کیخلاف شروع ہونے والے آپریشن کے باعث چھوٹو گینگ کیخلاف بھی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ یہ آپریشن گزشتہ 19 روز سے جاری ہے۔ آپریشن کی شروعات پنجاب پولیس کی جانب سے کی گئی۔ پنجاب پولیس کو آپریشن میں اب تک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب تک متعدد پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ پولیس کی ناکامی کے بعد اب رینجرز اور فوج کے جوان کچے کے علاقہ پہنچ چکے ہیں اور آپریشن کی شروعات کی جا چکی ہے۔
ایس ایس جی کمانڈوز میدان میں، چھوٹو گینگ نے فرار کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی ؟ سب سامنے آ گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































