بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سانحہ گلشن اقبال پارک کے بعد ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا،کچھ ثابت ہونے سے قبل کسی کو ملزم یا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا ‘ رانا ثنا اللہ

datetime 31  مارچ‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں ،دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف آپریشن کسی سیاسی جماعت کی ڈکٹیشن پر نہیں کیا جارہا ، ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے ایک ایک نقطے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے، گلشن اقبال پارک کے سانحہ کے بعد آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے اورہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہیں کچھ ثابت ہونے سے قبل ملزم یا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا ،علمائے کرام نے تحفظ نسواں قانون کی کسی شق کو قرآن و سنت کے منافی قرار نہیں دیا ،تجاویز پر غور کررہے ہیں اور ضرورت پڑی تو انہیں اسمبلی میں لایا جائے گا،دھرنے میں قانون کو ہاتھ میں لینے اور سرکاری املاک کونقصان پہنچانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ۔پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوےء رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک فرقے کی جانب سے دھرنا دیا گیا ۔ حکومت نے تدبر اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس مسئلے کو طاقت کے استعمال کے بغیر ہی حل کیا جس پر اس میں کردار ادا کرنے والے تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی ۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن پہلے بھی جاری تھا لیکن سانحہ گلشن اقبال پارک کے بعدآپریشن میں تیزی لائی گئی ہے ۔انتہا پسندوں ،دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف آپریشن کسی سیاسی جماعت کی ڈکٹیشن پر نہیں کیا جارہا ۔ یہ پوری قوم کا آپریشن ہے جسکے تحت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سانحہ گلشن اقبال پارک کے بعد آپریشن میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن تحقیقات میں شناخت اور اپنا صاف کردار ثابت کرنے والوں کو رہا کر دیا گیا جبکہ چند سو افراد کو باقاعدہ گرفتار کر کے ان کی سکریننگ کی جارہی ہے ۔انہوں نے تحفظ نسواں قانون کے حوالے سے کہا کہ حکومت از خود اس کو واپس لینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی ۔علمائے کرام کی تجاویز پر غور کررہے ہیں، علمائے کرام نے قانون کی کسی شق کو قرآن پاک کے منافی قرار نہیں دیا ہے۔ اس حوالے سے جو بھی تجاویز آئیں گی انہیں ضرورت ہوئی تو ضرور ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…