منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کیا شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ؟ کیا وہ مریضوں کیلئے خون دے سکتے ہیں ؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لاہور میں گلشن اقبال پارک کے افسوسناک واقعے کے بعد خادم اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ہسپتال میں مریضوں کیلئے خون کا عطیہ دیا ۔ ماضی میں ان کو کینسر جیسا مرض لاحق رہنے کی وجہ سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے سوالات اٹھاناشروع کردیئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہبازشریف تندرست ہیں اور خون دے سکتے ہیں

123
وزیراعلیٰ پنجاب نے جولائی 2015 میں سوشل میڈیا سٹیٹس شیئرکیاجس میں میاں شہبازشریف کاکہناتھاکہ ’کچھ لوگوں نے مناسب سوال پوچھاکہ میں اپنے میڈیکل چیک اپ کیلئے لندن کیوں جاتاہوں؟ پیارے دوستو! میں اپنی کہانی کسی کو نہیں بتاناچاہتالیکن سوچتا ہوں کہ آپ کو حقیقت جاننے کاحق ہے، مشرف کے دورمیں جلاوطنی کے دوران ‘بیک بون کینسر’ کی تشخیص ہوئی تھی اور اس وقت لندن میں تھاتو وہیں علاج شروع ہوگیاتواسی وجہ سے لندن میں ہی چیک اپ ہوتاہے کیونکہ مجھے ڈاکٹر تبدیل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ، میں یہ یقین دہانی کراتاہوں کہ اس ضمن میں تمام اخراجات جیب سے اداکرتاہوں اور اس مقصد کیلئے حکومت پنجاب کا ایک پیسہ ہی استعمال نہیں ہوا‘۔وزیراعلیٰ نے خود اپنی بیماری کی تصدیق بھی کی تھی اور ساتھ ہی اپنی صحتیابی کی خبر بھی، علاج مکمل ہونے کے بعد اب وہ مکمل طورپر صحت مندہیں اور خون دے سکتے ہیں ۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ‘بیک بون کینسر’ جسے مرض میں مبتلا آدمی صحتمند ہو جائے تو مخصوص وقت گزرنے کے بعد خون دے سکتا ہے، ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے واقعی خون کا عطیہ دیا ، اور وہ کبھی بلڈ کینسر جیسے مرض میں مبتلا نہیں رہے. اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چند حلقو ں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم انتہائی افسوسناک اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت ہے . بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے خون کا عطیہ دینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کی تائید کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…