اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ؟ کیا وہ مریضوں کیلئے خون دے سکتے ہیں ؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

datetime 29  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) لاہور میں گلشن اقبال پارک کے افسوسناک واقعے کے بعد خادم اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ہسپتال میں مریضوں کیلئے خون کا عطیہ دیا ۔ ماضی میں ان کو کینسر جیسا مرض لاحق رہنے کی وجہ سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر طرح طرح کے سوالات اٹھاناشروع کردیئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہبازشریف تندرست ہیں اور خون دے سکتے ہیں

123
وزیراعلیٰ پنجاب نے جولائی 2015 میں سوشل میڈیا سٹیٹس شیئرکیاجس میں میاں شہبازشریف کاکہناتھاکہ ’کچھ لوگوں نے مناسب سوال پوچھاکہ میں اپنے میڈیکل چیک اپ کیلئے لندن کیوں جاتاہوں؟ پیارے دوستو! میں اپنی کہانی کسی کو نہیں بتاناچاہتالیکن سوچتا ہوں کہ آپ کو حقیقت جاننے کاحق ہے، مشرف کے دورمیں جلاوطنی کے دوران ‘بیک بون کینسر’ کی تشخیص ہوئی تھی اور اس وقت لندن میں تھاتو وہیں علاج شروع ہوگیاتواسی وجہ سے لندن میں ہی چیک اپ ہوتاہے کیونکہ مجھے ڈاکٹر تبدیل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ، میں یہ یقین دہانی کراتاہوں کہ اس ضمن میں تمام اخراجات جیب سے اداکرتاہوں اور اس مقصد کیلئے حکومت پنجاب کا ایک پیسہ ہی استعمال نہیں ہوا‘۔وزیراعلیٰ نے خود اپنی بیماری کی تصدیق بھی کی تھی اور ساتھ ہی اپنی صحتیابی کی خبر بھی، علاج مکمل ہونے کے بعد اب وہ مکمل طورپر صحت مندہیں اور خون دے سکتے ہیں ۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ‘بیک بون کینسر’ جسے مرض میں مبتلا آدمی صحتمند ہو جائے تو مخصوص وقت گزرنے کے بعد خون دے سکتا ہے، ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے واقعی خون کا عطیہ دیا ، اور وہ کبھی بلڈ کینسر جیسے مرض میں مبتلا نہیں رہے. اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چند حلقو ں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم انتہائی افسوسناک اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت ہے . بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے خون کا عطیہ دینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کی تائید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…