بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے پاکستان میں اپنے گرفتارجاسوس تک قونصلر رسائی مانگ لی

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت نے پاکستان میں اپنے جاسوس کی گرفتاری تسلیم کرلی اور پاکستان سے گرفتار شخص تک قونصلر رسائی مانگ لی ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان میں بھارتی شہری کی گرفتاری تسلیم کرتے ہیں ، کل بھوشن یادیو نیوی کا سابق ملازم ہے جس نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی ، ملزم کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ، گرفتارشخص نیوی کا سابق کمانڈر اور ممبئی کا رہائشی ہے ۔یادرہے کہ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تعلق زیادہ اچھے نہیں اور عمومی طورپر بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا ہی کیا جاتاہے اور پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جانیوالے ثبوت ہی مستر د کردیئے جاتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ کھل کر اعتراف کرلیا۔دوسری طرف دوران تفتیش ملزم کل بھوشن یادیو نے انکشاف کیاکہ پاکستان میں ”حسین مبارک پٹیل“ کے نام سے رہ رہا تھا۔ وہ 2013 سے ” را‘ ‘ میں تعینات تھا جبکہ وہ بھارتی نیوی میں افسر کے عہدے پر فائز ہے اوربھارتی نیوی میں اس کارڈ نمبر زیڈ41588 ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھوشن یادیو نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے جبکہ بلوچستان اور کراچی کو علیحدہ کرنے کی سازش بھی کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق کل بھوشن یادیو کی تاریخ پیدائش 16 اپریل 1970 ہے جبکہ اس کے دو بچے اور بیوی بھارت میں اس کے والدین کیساتھ مقیم ہیں۔اس نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ ایران کے راستے بلوچستان آتا تھا اور وہ 2003 سے ایرانی پورٹ چاہ بہار میں پاکستان کیخلاف کام کیلئے تعینات تھا۔اس کے پاسپورٹ پر ایران کا ویزہ لگا ہوا ہےاور اس کے پاسپورٹ کا نمبر ایل 9630722 ہے جبکہ اس کے والد کا نام سدھیر یادیو ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…