بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تخت لاہور والے کوئی فرشتے نہیں کہ ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی، شہلا رضا

datetime 24  مارچ‬‮  2016 |

فیصل آباد (نیوز ڈیسک)ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ تخت لاہور کے نااہل شعبدہ باز حکمران کوئی فرشتے نہیں کہ ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ ن لیگ کی نااہلی اور دفتر خارجہ کی سنگین غفلت کی وجہ سے پاکستانی تاجر وں کو ماسکو ایئرپورٹ پر حبس بے جا میں رکھ کر روس نے بین الاقوامی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔کیا ہم اتنے ہی کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمارے سفارت خانے تارکین وطن کی درپیش مشکلات اور مسائل سے لاعلم رہتے ہیں۔ جب تک کوئی چیز میڈیا پر نہیں آجاتی اس وقت تک ن لیگ کو ہوش نہیں آتا اور نہ ہی ان کے کانوں پر جوں رینگتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جھنگ صدر میں جشن نوروز کی تقریب میں شرکت کے بعد پیپلزپارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد اعجاز چوہدری کی رہائش گاہ پیپلزسیکرٹریٹ سمندری روڈپرپارٹی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پرسابق وفاقی مشیر ٹیکسٹائل ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ ، لال حسین راشد، محمد طاہر شیخ، میاں ارشد ندیم، سرمد راہی، سٹی صدر پی ایل بی رانا منظور، جنرل سیکرٹری رفیق عمار بھٹی بھی موجود تھے، سابق وفاقی مشیر ٹیکسٹائل ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ تارکین وطن امریکہ، یورپ اور سعودی عرب میں مختلف مسائل کا شکار ہیں لیکن حکومت کروڑوں روپے زرمبادلہ حاصل کرنے کے باوجود ان کے مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دیتی۔ وزیراعظم پاکستان روس میں پھنسے تارکین کی بازیابی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔۔ انہوں نے کہا ن لیگی حکمران مرکز اور پنجاب میں عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ بدقسمتی سے تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہونے کے باوجودبلدیاتی نمائندے بے اختیار اور لاکھوں خرچ کرنے کے باجود پریشان ہیں۔ پنجاب میں میئرز اور ضلعی کونسل کے چیئرمینوں کے انتخابات کو لیگی قیادت جان بوجھ کر التواء میں رکھ کر اپنی نالائقی اور نااہلی کا عملی ثبوت دے رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب تین سال کا عرصہ ہونے کے باوجود پاکستان کے وزیرخارجہ کا عہدہ خالی پڑا ہے۔ قوم ایسے نااہل حکمرانوں سے قومی سلامتی کے امور کی بہتری کی کیا امید رکھ سکتی ہے؟؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…