بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

قومی اسمبلی اجلاس، کم عمر بچیوں سے شادی کی سزائیں بڑھانے کا ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کوارسال

datetime 24  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی نے عمر رسیدہ افراد کی کم عمر بچیوں سے شادی کی سزائیں بڑھانے کا ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ جمعرات کو ایم کیو ایم کی محترمہ کشور زہرہ نے بچوں کی شادی کا امتناع ایکٹ 1929 میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کیاجس کی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مخالفت نہیں کی اور کہا کہ اس بل کو متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا جائے ، کشور زہرہ نے کہا کہ اس سے قبل یہ بل ماروی میمن نے پیش کیاتھا، قائمہ کمیٹی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کی مخالفت کی اور بل منظور نہ ہوسکا، انہوں نے کہا کہ اس وقت عمر رسیدہ افراد کی کم عمر بچیوں سے شادی کی سزائیں بہت کم ہیں، ان سزاؤں کو بڑھانے کیلئے بل لایا گیا ہے اس وقت سزا ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہے اس کو بڑھا کر تین سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ اس بل کو دوبارہ کمیٹی کو بھیج دیں، یہ شریعت کا معاملہ ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل اس کو دوبارہ دیکھے گی ۔1973ء کے آئین کے تحت کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بن سکتا ، ایسے تمام بلوں پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لی جاتی ہے جو قرآن وسنت کے مطابق رائے دیتے ہیں۔ سپیکر نے کہا کہ اس بل کو دوبارہ کمیٹی کو بھجوا دیں جس کی ایوان نے منظوری دیدی اور بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…