اسلام آباد (نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اسٹیبلشمینٹ کی بے بی تھی ، جسے 1983 میں تیار کیا گیا ، بلاول جب نکلیں گے تو ان کے پاس اختیارات بھی ہونگے ، سینٹ کو فیڈریشن کی علامت سمجھتا ہوں ، گالم گلوچ اور الزامات کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ بلاول جب نکلیں گے تو ان کے پاس اختیارات بھی ہوں گے اور جذبہ بھی، عام انتخابات سے قبل بلاول بھٹو کو میدان میں اترنا ہوگا، شہباز تاثیر کی بازیابی پر ان کے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ کو فیڈریشن کی علامت سمجھتا ہوں۔ گالم گلوچ اور الزامات کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا، ملک بچانے کے لیے تمام سیاستدانوں کو مل بیٹھنا ہوگا، اسٹیبلشمنٹ ہو پارلیمنٹ ہو عدلیہ یا پھر میڈیا سب کا وجود پاکستان سے مشروط ہے، باریوں کا الزام لگتا ہے باریاں تو پڑوسی ملک بھارت میں بھی چلتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے نیب کو ختم کرنے کے حوالے سے رابطہ کیا تو ساتھ دینے کا سوچیں گے اس وقت نیب کا خاتمہ کیا گیا تو الزام لگے گا کہ سیاستدان ایک دوسرے کو بچا رہے ہیں، کوئی قانون اور آئین قرآنی آیات نہیں جس میں تبدیلی نہ ہوسکے، نواز لیگ سے کہا تھا کہ کوئی ایسا شفاف نظام بنائیں جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو، نیب کو 2008 میں ختم کردیا لیکن اپوزیشن نے ساتھ نہیں دیا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت اور اسٹیبشلمینٹ ایک پیج پر ہیں ،آنے والے آرمی چیف کو بھی جنرل راحیل شریف کے جذبے کے تحت کام کرنا ہوگا،اب تک کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خورشید نے کہاکہ میرا نہیں خیال کہ آرمی چیف اپنی شخصیت کے خلاف کئی فیصلہ کریں گے۔ میڈیا نے اتنی سنسنی پھیلائی کہ جنرل راحیل کو مجور ہوکر توسیع نہ لینے کا اعلان کرنا پڑا۔ ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی چیف نے جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف 20 فیصد ہی کام ہوا ہے، 80 فیصد کام باقی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آرمی چیف کا کردار تاریخی ہے۔اپوزیشن لیڈرنے کہاکہ صرف ایک صوبے کو ٹارگٹ کرنا ملک کی کی خدمت نہیں ہے۔ دوسرے صوبے رینجرز کو بلاتے ہیں لیکن سندھ میں بغیر پوچھے بھیج دی جاتی ہے۔ رینجرز کی جانب سے سندھ میں تھانوں کا مطالبہ بڑی زیادتی ہے۔ ایم کیو ایم پر را سے تعلقات کے الزامات نئی بات نہیں ، حکومت کو چاہئے کہ ان الزامات کی اعلی ٰ سطح پر تحقیقات کرائے۔ جس پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہو اسے کمزور تو کیا جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کا بے بی ہے جسے اس نے 1983 میں تیار کیا تھا مگر اب وہ بے بی بڑا ہوگیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی یاد ہونا چاہئے کہ جب بے بی بڑا ہوکر خود سر ہونے لگتا ہے تو اسے سبق سکھانا پڑتا ہے۔ مصطفی کمال سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال اکیلئے نہیں ہیں کوئی نہ کوئی تو ان کے پیچھے ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی بے بی ، جسے 1983 میں۔۔۔ خورشید شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز،سب سامنے لے آئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
جون اور جولائی کے فیس واؤچرز! نجی اسکولوں کے لیے نیا حکم نامہ جاری
-
پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گرادی
-
ٹرمپ نے ایران سے جن 8 خواتین کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا وہ کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری
-
عمران خان 3 پارٹی رہنماؤں سے سخت ناراض
-
راولپنڈی میں ٹریفک جام کے باعث بس سے اتر کر نجی ہوٹل کے کمرے میں قیام کرنے والی ہوسٹس زیادتی کا نشا...
-
ایلون مسک نے کراچی کے نوجوان کی کمپنی کی قیمت 60ارب ڈالر لگا دی
-
سوشل میڈیا پر ترنول ریلوے پھاٹک کو ’’آبنائے ہرمز‘‘ سے تشبیہ دینا شہری کو مہنگا پڑ گیا
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
پاکستانیوں کیلئے اگلے ماہ ایک ساتھ 3روزہ تعطیلات کا امکان
-
سونے اور چاندی کی قیمت میں بڑی کمی
-
سولر لائسنسنگ بارے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں،نیپرا کی وضاحت
-
لڑکیوں کے مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے20 طالبات زخمی، 3 کی حالت تشویشناک
-
وزیراعظم کا بڑا فیصلہ، گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس ملیں گی



















































