بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سانحہ منیٰ ، پاکستانی حجاج کی ٹریکنگ کیلئے سخت نظام لانے کا فیصلہ

datetime 9  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت مذہبی امور نے سانحہ منیٰ کے بعد پاکستانی حجاج کی ٹریکنگ کے لئے سخت نظام لانے پر کام شروع کردیا،حاجیوں کو جی پی آر ایس کڑے پہنانے کی تجویز پر غورکیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امورنے سانحہ منیٰ کے بعد پاکستانی حجاج کرام کی شناخت اورٹریکنگ کے لئے سخت نظام لانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں وزارت نے حاجیوں کو جی پی آر ایس کڑے پہنانے کی تجویز پر غور کیاجا رہا ہے۔متعلقہ آئی ٹی کمپنی کا کہناتھا کہ جی پی آرایس کڑے کی بیٹری زیادہ سے زیادہ 3 روز تک چل سکتی ہے جس کے بعد اسے چارج کرنا ضروری ہوگا تو وزارت مذہبی امورنے جی پی آر ایس کڑے پہنانے کی تجویز مسترد کردی کیونکہ حاجیوں کے لئے مناسک کی ادائیگی کے دوران جی پی آرایس کڑے کی بیٹری چارج کرنا مشکل ہوگا۔جی پی آرایس کڑے کی تجویزمسترد کرنے کے بعد وزارت مذہبی امورنے حاجیوں کو پلاسٹک کے کڑے پہنانے کی تجویز پرغور شروع کردیا ہے، حجاج کرام کی جانب سے شناخت کے لئے پہنائے جانے والے کڑے اتارنے کے عمل کو روکنے کے لئے وزارت مذہبی امور نے کڑے پہننے کے فوائد سے آگاہی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کڑے نہ پہننے پر حجاج کوجرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس منیٰ میں پیش آنے والے دل خراش واقعے میں 100 سے زائد پاکستانی شہید ہوگئے تھے، کئی کی شناخت نہ ہوسکنے کے باعث انہیں وہیں سپرد خاک کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…