بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عزیر بلوچ کے قریبی ساتھی انسپکٹر چاند نیازی نے کئی اہم راز اگل دیئے

datetime 9  مارچ‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں عوام کی جان و مال کے محافظ ہی لٹیرے نکلے ، لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کے قریبی ساتھی انسپکٹر چاند خان نیازی سے تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ گرفتار ملزم چاند خان نیازی نے انکشاف کیا ہے انسپکٹر امتیاز نیازی ، انسپکٹر عابد تنولی عزیر بلوچ کے احکامات کے مطابق کام کرتے تھے۔ عزیر جان بلوچ کے قریبی ساتھی ملزم انسپکٹر چاند خان نیازی نے ابتدائی تفتیش میں یہ چشم کشا انکشاف کیا ہے کہ ایس پی رینک سے لیکر کانسٹیبل رینک کے پولیس اہلکار عزیر بلوچ کے زیر اثر کام کرتے تھے۔ ان 14 پولیس اہلکاروں میں کچھ ریٹائرڈ افسران بھی ہیں جن میں سابق ایس پی لیاری رئیس غنی ، سابق ایس ایچ او بغدادی عابد تنولی اور انسپکٹر امتیاز نیازی ، عزیر بلوچ کے احکامات کے مطابق کام کرتے تھے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کانسٹیبل فاروق نیازی بیٹر کے طور پر کام کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کو تفتیش کیلئے طلب کیا جاسکتا ہے۔ چاند خان نیازی کو چند روز قبل رینجرز نے گرفتار کیا گیا تھا۔ انسپکٹر چاند خان نیازی پر ارشد پپو ، یاسر عرفات اور یاسر پٹھان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق تمام 14 پولیس اہلکاروں کو تفتیش کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ انسپکٹرچاندخان نیازی پرارشد پپو، یاسر عرفات اور یاسرپٹھان کے قتل میں ملوث ہونے کاالزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…