جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

عزیر بلوچ اپنے والد کے اغواء اور قتل کے بعد قانون شکن بنا

datetime 30  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک)لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار عذیر جان بلوچ اپنے والد کے اغواء اور بہیمانہ قتل کے بعد قانون شکن بنا۔ عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں کیسے آیا، کس نے ساتھ دیا اور اس نے کس کی حمایت سے لیاری کو جرائم کا دارالحکومت بنایا۔عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں حادثاتی طور پر آیا، جب ارشد پپو گروپ نے اس کے ٹرانسپورٹر باپ فیضو ماما کو اغوا کے بعد قتل کیا تو رحمان ڈکیت نے اسے اپنے گینگ میں شامل کرلیاپھر 2009ء میں ایک وقت وہ بھی آیا جب پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد اس نے گینگ کی سربراہی سنبھال لی۔کچھ جرائم پیشہ دوستوں کی سنگت کا اثر تھا اور کچھ سیاسی حمایت کا جادو، اس کے بعدعزیر بلوچ نےپیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اس کے مسلح کارندے کراچی کے کاروباری و صنعتی علاقوں میں خوف و دہشت کی علامت بن گئے، جہاں بھتہ خوری اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا۔فشریز میں کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن ہو یا سمندری اور زمینی راستوں سے ہونے والی منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں کیا گیا وحشیانہ قتل عام ہو، یا لوگوں کو چلتی بسوں سے اُتار کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینکنے کی بربریت، کوئی تاجر گولیوں سے چھلنی ہوا ہو، یا کسی حریف کا سر کاٹ کر فٹ بال کھیلی گئی ہو، ان سارے جرائم کے ڈانڈے عزیر بلوچ ہی سے ملائے جاتے ہیں۔دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیپلزپارٹی غیر علانیہ طور پر عزیر بلوچ کو سپورٹ کرتی رہی ہے۔عزیز بلوچ سے وزیراعلیٰ سندھ، شرجیل میمن، فریال تالپور اور دیگر کی ملاقاتیں بھی سامنے آچکی ہیں۔اس متنازع اتحاد کے شیشے میں بال 2012 ءمیں اُس وقت پڑا جب عزیر بلوچ نے پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما اویس مظفر عرف ٹپی کو لیاری سے الیکشن لڑنے سے روک دیا۔ردعمل یہ آیا کہ اپریل 2012 ءمیں لیاری گینگ وار کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا جو مقامی لوگوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق مکمل سیاسی مقاصد کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…