جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں شادی کی عمرکامعاملہ ،بڑی تنظیم بول پڑی

datetime 16  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی جانب سے لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی شادی کی عمر کو اٹھارہ سال تک بڑھانے کی تجویز مسترد کئے جانے پر مایوسی اور تشویش کا اظہارکر دیا ہے۔ ایک بیان میں کمیشن نے کہاکہ سول سوسائٹی اور باشعور شہریوں کی طرح پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) بھی اس بات پر غمزدہ ہے کہ جمعرات کوقائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے بچیوں کی شادی سے متعلق کم عمری کی شادی کے ایکٹ1929ءمیں مجوزہ ترامیم کو مسترد کردیا اور محض چند قانون دانوں نے ہی بچیوں کے حقوق کی حمایت کی۔ قائمہ کمیٹی کے رویئے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے جنہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ وہ رجعت پسندی کو تحفظ دینے کے سی آئی آئی سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 1929ءکے قانون کے ذریعے قائداعظم نے مسلمان لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر مقرر کرانے کے لئے جو جدوجہد کی تھی وہ ان لوگوں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جو قائد کے نظریئے کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس اقدام سے انسانی حقوق کے ان اہم معاہدات پر پاکستان کے موقف کو بھی ٹھیس پہنچی ہے جن کا پاکستان فریق ہے جو مردوں، عورتوں اور بچوں کے حقوق اور شادی کے معاملے میں مساوی حقوق پر زور دیتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کے فیصلے سے پاکستان کی خواتین اور ان کے انصاف پسند حامیوں کو صرف یہ پیغام ہی ملنا چاہئے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور سندھ کی مثال کو اپنے لئے نمونہ بنائیں جس نے قانون کے ذریعے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے شادی کی کم از کم عمر 18 برس مقرر کی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…