ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

غیر اعلانیہ کاروباری اثاثہ جات کو ”وائٹ “کرنے کا آسان طریقہ،صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی تیاریاں

datetime 25  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور( نیوزڈیسک) حکومت اور تاجروں کے درمیان ٹیکس معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،فریقین نے ایمنسٹی اسکیم پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت تاجر معمولی ٹیکس ادا کرکے اپنے غیر اعلانیہ کاروباری اثاثہ جات کو ”وائٹ “کرسکیں گے،حکومت اور تاجر برادری کے درمیان اس معاہدے کے بعد فریقین کے درمیان بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کے حوالے سے ڈیڈلاک بھی ختم ہوگیا ہے،یہ اسکیم انکم ٹیکس ریٹرنز کے فائلرز اور نان فائلرز دونوں پر لاگو ہوگی، جس کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار جنوری کے پہلے ہفتے میں کریں گے۔ایک میڈیا رپورٹ میں وزارت خزانہ کے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اسکیم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے متعارف کرائی جائے گی جس کے متن کو آئندہ چند دنوں میں حتمی شدل دے دی جائے گی۔ذرائع نے کہا کہ آرڈیننس کا نفاذ سینیٹ کے آئندہ ہفتے کے آخر میں متوقع اجلاس کے بعد ہوگا۔ایمنسٹی اسکیم یکم جنوری سے ایک ماہ کے لیے نافذ العمل ہوگی اور اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو امید ہے کہ اسکیم پر عمل سے ٹیکس نیٹ میں 20 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندہ کا اضافہ ہوگا۔واضح رہے کہ اس وقت ملک کی تقریباً 20 کروڑ کی آبادی میں سے 10 لاکھ سے بھی کم افراد ٹیکس دیتے ہیں۔انکم ٹیکس ریٹرنز کے نان فائلرز کے لیے حکومت نے 5 کروڑ تک غیر اعلانیہ کاروباری اثاثہ جات کو وائٹ کرنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جو تاجر اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے انہیں آئندہ تین سالوں کے لیے آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ ان سے ذرائع آمدنی سے متعلق بھی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ایسے تاجروں کو پہلے سال میں اپنے اعلانیہ کاروباری اثاثہ جات پر ایک فیصد کے حساب سے 5 لاکھ، دوسرے سال میں 6 لاکھ 25 ہزار اور تیسرے سال میں 7 لاکھ 82 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ٹیکس نان فائلرز کو ایک اور سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ دوسرے اور تیسرے سال میں یا تو اپنے اعلانیہ ٹرن اوور کا 0.2فیصد ٹیکس ادا کریں یا پہلے سال کے ٹیکس کے مقابلے میں 25 فیصد زائد ٹیکس ادا کریں۔اسکیم کے تحت انکم ٹیکس ریٹرنز کے فائلرز کے لیے اپنے غیر محدود اثاثوں کو وائٹ کرنے لیے تین مختلف سلیبز متعارف کرائے جائیں گے۔ایسے تاجروں کے حوالے سے فریقین کے درمیان اتفاق کیا گیا ہے کہ 25 کروڑ سے زائد اعلانیہ ٹرن اوور دکھانے والے تاجروں سے 0.1فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، 10 سے 25 کروڑ کے درمیان ٹرن اوور رکھنے والے تاجر 0.15فیصد ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ 5 سے 10 کروڑ والے تاجر 0.2فیصد کے حساب سے ٹیکس دیں گے۔جو تاجر اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ ہی ٹیکس ریٹرنز فائل کرتے ہیں انہیں بینک ٹرانزیکشنز پر 0.6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا۔دریں اثنا حکومت نے بینک ٹرانزیکشنز پر 0.3فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنے کی مدت میں 31 دسمبر تک توسیع کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…