ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پشاور حملے کے بعد فہد محمود خان نے قوم کے بچوں لئے ایک اہم کام کر ڈالا

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آرمی پبلک اسکول پر گذشتہ برس دسمبر میں ہونے والے حملے کے بعد فہد محمود خان، اپنے 7 سالہ بیٹے کو تو اسکول سے گھر لے آئے، لیکن وہ اس واقعے پر شدید صدمے میں تھے.فہد محمود کے مطابق “میں صدمے میں تھا کہ کوئی کس طرح معصوم بچوں کے ساتھ یہ کرسکتا ہے”، ساتھ ہی اْن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنے پر خوفزدہ تھے کیونکہ وہ اب محفوظ نہیں تھے.3ماہ تک اپنے بچے کو گھر پر پڑھانے کے بعد فہد کو احساس ہوا کہ وہ اپنے بچے کو معاشرے میں گھلنے ملنے اور اپنی عمر کے دوسرے بچوں کے ساتھ تفریح کے مواقعوں سے محروم کر رہے ہیں. انھوں نے سوچا کہ ان کا بیٹا ہمیشہ گھر میں قید نہیں رہ سکتا اور اس کا کوئی اور حل ہونا چاہیے.اپنے بیٹے اور دیگر بچوں کے لیے دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنانے کے لیے سب سے پہلے فہد نے اپنی اسلحہ ڈیلر شپ ترک کی، جو وہ گذشتہ 5 سالوں سے کر رہے تھے.اور اس کے بعد 14 دسمبر 2014 کے سانحے سے متاثر ہو کر فہد کے ذہن میں ایک ایسی موبائل فون ایپلیکشن کا خیال آیا جو لوگوں کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے. انھوں نے سوچا کہ ایک ایسی چیز جو لوگوں کے پاس ہمیشہ ہوتی ہے، وہ موبائل فون ہے.جس کے بعد فہد نے ‘محافظ’ نامی ایک فون ایپ پر کام شروع کردیا. 5.5MB کی یہ ایپلیکیشن، ایپ سٹورز سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے.یہ ایپ، اینڈرائیڈ اور آئی او ایس فونز کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اور اس کے لیے صارفین کو کچھ اضافی معلومات مثلاً بلڈ گروپ وغیرہ دینی پڑتی ہیں، جبکہ اس ایپ کے ذریعے ہسپتال بھی ایمرجنسی کی صورت میں خون عطیہ کرنے کے خواہش مند صارفین سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اس ایپ کے ذریعے صارفین اپنے خاندان کے افراد یا دوستوں کو منتخب کرسکتے ہیں جنھیں کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں ایک بٹن دباتے ہی سگنل موصول ہوجائے گا۔بٹن دباتے ہی ایک نئی ونڈو کھلے گی، جس پر حادثات کی نوعیت یعنی آگ، سیلاب،زلزلہ اور چوری کے آئیکون بنے ہوئے ہوتے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے حملے کی صورت میں ایک ماسک اور پستول کا آئیکون بھی شامل کیا گیا ہے۔فہد خان کے مطابق، “ان آئیکونز کی مدد سے نامزد کردہ ایمرجنسی کانٹیکٹس فوری ردعمل ظاہر کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔”

ان کا کہنا تھا، “جب میں یہ ایپ ڈیزائن کر رہا تھا تو میں نے اْن لوگوں کو بھی ذہن میں رکھا جو ٹیکنالوجی سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور اْن لوگوں کو بھی جو ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ‘محافظ’ میں ایسے رنگوں اور آئیکونز کا استعمال کیا گیا ہے جنھیں آسانی سے شناخت کیا جاسکے”۔انھوں نے مزید بتایا کہ ہنگامی پیغام جانے کے 30 سیکنڈ کے اندر پیغام موصول کرنے والے کو صارف کی لوکیشن کی بھی اطلاع موصول ہوجائے گی۔ یہ پیغام اْس وقت بھی بھیجاجاسکے گا جب سگنلز بہت خراب ہوں، حتیٰ کہ صارفین اْس وقت بھی پیغام بھیجنے کے قابل ہوں گے جب ایپلیکشن ایکٹو نہ ہو یا فون سوئچ آف ہو۔ اس صورت میں پاور بٹن کو 2 مرتبہ دبانے پر پیغام نامزد کردہ شخص کو موصول ہوجائے گا۔فہد نے بتایا کہ “اگر کوئی شخص گن پوائنٹ پر ہو تب بھی اس کی جیب یا بیگ میں موجود موبائل فون کے پاور بٹن کو دو مرتبہ دباتے ہی نامزد کردہ فرد کو اس کی لوکیشن موصول ہوجائے گی۔”ان کا کہنا تھا کہ یہ ایپ اْن کی ایک کولیگ کو اغوا ہونے سے بچا چکی ہے، جب انھوں نے اس کے ذریعے ہنگامی پیغام بھیجا، ” میری دعا ہے کہ صارفین کو کبھی اس ایپ کا استعمال نہ کرنا پڑے، لیکن اگر وہ ایسی کسی صورتحال کا شکار ہوجائیں تو ان کے پاس ایسی چیز ہے جو ان کی مدد کرسکے گی”۔ایک ایسے ملک میں جہاں ایمبولینس سروسز اور پولیس فوراً موقع پر نہیں پہنچتی اور جہاں حکومت کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ افراد کو کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد فراہم کرسکے، فہد خان کو امید ہے کہ اس ایپ کی مدد سے، نامزد کردہ ایمرجنسی کانٹیکٹ نمبر کو فوری طور پر لوکیشن کی اطلاع بھیجی جاسکے گی۔ان کا مزید کہا تھا کہ “ہم ہر چیز کے لیے حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے، ہمیں اپنی حفاظت کے لیے خود بھی کچھ اقدامات کرنے چاہئیں”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…