ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کیا ثناء اللہ زہری بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک سے بہتر کام کرسکیں گے؟

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) اگرچہ سردار ثناء اللہ زہری کی بطور وزیراعلیٰ بلوچستان نامزدگی 2013ء کے معاہدۂ مری کا نتیجہ ہے لیکن اس سے کئی لوگوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور ساتھ یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ صوبے میں سبکدوش ہونے والے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں جو کچھ فائدہ ہوا وہ سب ضایع ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عبدالمالک کو تبدیل کرنے کا وزیراعظم نواز شریف کا فیصلہ معاملات کو پیچھے لے جائے گا۔ فیصلے کے نتیجے میں صوبے میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران سیاسی اور سیکورٹی حکام کی جانب سے حاصل کیے گئے اہداف کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالمالک صوبے کے اب تک کے بہترین وزیراعلیٰ تھے اور اب پاکستان کے انتہائی پسماندہ اور خطرات میں گھرے 41 فیصد حصے کی قسمت کی باگ ڈور ایسے شخص کے حوالے کی جا رہی ہے جس کی اپنی ساکھ قابل اعتراض ہے۔ سردار ثناء اللہ زہری نے اگر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے کاموں کو آگے بڑھایا تو اس سے مسلم لیگ (ن) سمیت سب ہی حیران رہ جائیں گے۔ لیکن خدشات ہیں کہ وہ سابق وزیراعلیٰ نواب رئیسانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔جبکہ ایک بلوچ سیاسی رہنما کا کہنا تھا کہ عبدالمالک بلوچ نے بہترین وزیر اعلیٰ ہونے کی جو مثال قائم کی ہے،نواب ثنا اللہ زہری اس سے بھی بہتر کام کریں گے، یہ بڑے محنتی شخص اور تجربہ کار سیاستداں ہیں اور یہ اپنے اچھے کاموں سے عوام کو ایک سرپرائز دینگے۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ سردار زہری کو معلوم ہی نہیں کہ اچھی طرز حکمرانی کیا ہوتی ہے بلکہ ان کی لغت میں ایسا کوئی لفظ ہے ہی نہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس فیصلے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک کے تحت بلوچستان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ بہترین سوچ سمجھ اور بالغ النظری سے ڈاکٹر عبدالمالک نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر صوبے میں امن و عامہ کی اس صورتحال کو بہتر بنایا جو پہلے ہاتھ سے نکلتی نظر آ رہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالمالک کے دور میں بلوچستان حکومت نے براہمداغ بگٹی، خان آف قلات اور دیگر سمیت کئی ناراض بلوچ رہنمائوں سے رابطے کیے بلکہ سیکڑوں جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے پر بھی آمادہ کیا۔ انہوں نے فوج کی سدرن کمان کی علیحدگی پسندوں کو دوبارہ اپنی جانب راغب کرنے کی پالیسی کی بھی حمایت کی۔ عبدالمالک بلوچ نے خود حالیہ مہینوں کے دوران سوئٹزرلینڈ کا دورہ کیا تاکہ براہمداغ بگٹی کو تشدد کا راستہ چھوڑنے کیلئے آمادہ کیا جا سکے۔ اپنے کردار کی وجہ سے، سویلین اور عسکری قیادت بھی ان پر اعتماد کرتی تھی۔ عبدالمالک بلوچ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے نمائندے تھے جنہوں نے گزشتہ 68 برس میں پہلی مرتبہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالا۔ بصورت دیگر، صوبے کا یہ اعلیٰ ترین عہدہ ہمیشہ سے ہی نوابوں اور سرداروں کے پاس رہا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی وجہ سے صوبے کی گورننس کی صورتحال بہتر ہوئی، کرپشن کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پلڈاٹ سمیت مختلف اداروں کے سروے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالمالک بلوچ کے ماتحت بلوچستان پہلے کے مقابلے میں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ وفاقی حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ عبدالمالک بلوچ نے ایک جنٹلمین کی طرح صوبے کے معاملات کو سنبھالا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو چاہئے تھا کہ وہ چیلنج قبول کرتے ہوئے عبدالمالک بلوچ سے کہتی کہ وہ کام کرتے رہیں اور ساتھ ہی بلوچستان میں اپنی پارٹی کے لوگوں کو آمادہ کرتی کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دیں۔ ذریعے نے کہا کہ اب زہری کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی کے بعد حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف عبدالمالک بلوچ کو بلوچستان کے امور پر وزیراعظم کی ٹیم کا اہم حصہ بنانا چاہئے بلکہ صوبے میں کسی نان سینس چیف سیکریٹری یا آئی جی پولیس کو بھی مقرر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی بیوروکریسی اور پولیس کو نئی سیاسی انتظامیہ کی ممکنہ چالوں سے علیحدہ رکھنا چاہئے اور بلوچستان اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ خراب طرز حکمرانی کو روکنے کیلئے بھرپور کوشش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…