جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

”یہ پابندی پاکستان پربھی لگنی چاہیے “

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک) ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ مغرب کے ساتھ اس کے معاملات کچھ بہتر ہوجائیں گے لیکن امریکا نے اپنے ویزہ قوانین میں ایک بڑی تبدیلی کرکے ایران کو ایک دفعہ پھر یہ پیغام دے دیا ہے کہ امریکا اس کے لئے اچھے جذبات نہیں رکھتا۔ امریکی حکومت کی طرف سے ویزہ قوانین میں کی جانے والی تبدیلی کی خبر سامنے آتے ہی ایرانی شہریوں نے امریکا پر غصے کا اظہار شروع کر دیا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایرانی نژاد امریکیوں نے اپنے غصے کی لپیٹ میں پاکستان کو بھی لے لیا اور اس پر بھی ایران جیسی پابندیوں کا مطالبہ کر دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکا کی طرف سے 38 ممالک کے شہریوں کو ویزہ سے استثنیٰ حاصل ہے، ان میں سے زیادہ تر ممالک یورپ میں واقع ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے شہریوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہے۔ ویزہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ ویزہ سے استثنیٰ رکھنے والے ممالک کے شہری عراق یا شام جیسے ممالک، جہاں بڑے حصے پر داعش قابض ہے، کا سفر کریں گے تو انہیں بھی امریکا آنے کے لئے ویزہ لینا ہوگا۔ بعدازاں اس فہرست میں ایران کو بھی شامل کردیا گیا، یعنی اگر کوئی شخص ایران کا سفر بھی کرے گا تو اس کے لئے بھی امریکی ویزے کا استثنیٰ ختم ہوجائے گا اور ویزہ لے کر ہی امریکا میں داخل ہو سکے گا۔ اس تبدیلی پر یورپی ممالک میںمقیم وہ افراد جنہیں پہلے امریکی ویزے سے استثنیٰ حاصل تھا سخت مایوسی کا اظہار کررہے ہیں۔امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ویزہ قانون میں کی گئی ترمیم پر ایرانی شہری، خصوصاً وہ جو یورپی ممالک میں آبادہیں اور دوہری شہریت رکھتے ہیں، بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کے دوران امریکا میں مقیم کئی ایرانی شہری یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک کا سفر کرنے والوں پر ایسی پابندیاں نہیں لگائی جا رہیں تو ایران کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا میں دہشتگردی کی نیت سے آنے والوں کا سدباب کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…