ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آخری مہلت ،دونوں ہی مشکل میں پڑ گئے

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، شہباز شریف، عمران خان ، شجاعت، پرویز الٰہی ،سردار ایاز صادق،اسحاق ڈار،جاوید ہاشمی، فاروق ستار، شیخ رشید، نجم سیٹھی،میاں منشائ،عاصمہ جہانگیر، اعتزاز احسن ، خواجہ شریف ،حمزہ شہباز شریف سمیت 64سیاستدانوں، سابق بیوروکریٹس اور دیگر شخصیات کے بیرون ملک اثاثے واپس لانے کے کیس میں وفاقی حکومت کو 15جنوری تک جواب جمع کروانے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہاکہ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے جواب عدالت میں جمع نہ کروایا گیا تو یکطرفہ کارروائی کا آغاز کریں گے ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی درخواست پر سماعت کی ۔ درخواست گزار کی جانب سے نواز شریف، شہباز شریف،چودھری شجاعت حسین، پرویز الٰہی ،عمران خان، سردار ایاز صادق، اسحاق ڈار، جاوید ہاشمی، فاروق ستار، نجم سیٹھی، میاں منشائ،عاصمہ جہانگیر، اعتزاز احسن ، خواجہ شریف ، حمزہ شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر اور شیخ رشید سمیت 64 سیاستدانوں وبیوروکریٹس اور دیگر شخصیات کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان شخصیات نے 1985ءسے اب تک 400ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کئے اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔نواز شریف کے صاحبزادوں نے برطانیہ میں ایک سو انچاس جائیدادیں خریدیں جبکہ درخواست میں فریق بنائے گئے تمام سیاستدانوں نے بیرون ملک اثاثے بنا کر ملک کو کنگال کیا۔ان سیاستدانوں کی طرف سے بیرون ملک بینکوں میں رکھے گئے پیسے وطن واپس لا کر ملک کی حالت تبدیل کی جا سکتی ہے اور حقیقی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذ معزز عدالت سے استدعاہے کہ ان 64سیاستدانوں وبیوروکریٹس کے بیرون ملک اثاثے واپس لانے اور ان کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات طلب کی جائیں۔دوران سماعت سینیٹر اعتزاز احسن کی جانب سے ان کی وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اعتزاز احسن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں لہٰذا ان کا نام کیس سے خارج کیا جائے ۔ جس پر عدالت نے انہیں تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔ فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کو جواب جمع کروانے کے لئے 15جنوری تک آخری مہلت دیتے ہوئے کہاکہ اگر اب بھی جواب جمع نہ کروایا گیا تو عدالت یکطرفہ کارروائی کا آغاز کرے گی ۔ جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…