جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی میں دہشت گردی میں کمی کے بعد ایک اورسنگین جرم نے سر اٹھالیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی میں دہشت گردی میں کمی کے بعد ایک اورسنگین جرم نے سر اٹھالیاکراچی ، قتل وغارت گری، دہشت گردی اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی لیکن جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی،صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی جو کئی دہائیوں سے قتل و غارت گری، تشدد ، بھتہ خوری اور لاقانونیت کے حوالے سے سرفہرست شہروں میں شمار ہوتا رہا ہے وہاں اب بدامنی بتدریج کم ہورہی ہے اور اس کا واضح ثبوت کراچی میں کم ہوتے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک کراچی میں قتل وغارت گری، دہشت گردی اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسی عرصے میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی۔رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرا یوسف کا کہنا تھاپروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے جبکہ کراچی میں رینجرزکو دیئے گئے نیم فوجی اختیارات سے بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔رینجرز کی جانب سے ٹھوس شواہدکے بغیر گرفتاریاں غیر انسانی اور غیر قانونی کام ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے اچھے نتائج نکل رہے ہیں لیکن ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتاریوں اور 90 دن تک پروٹیکشن آف پاکستان کے تحت کسی کو بھی زیر حراست رکھنا غیرقانونی عمل ہے۔ رینجرز کو کراچی آپریشن مزید شفاف اور قانونی بنانا چاہئے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک رینجرز کی وجہ سے کراچی میں سیاسی کارکنوں اور رہنماوں کے قتل میں 63 فیصد کمی ہوئی۔ اسی عرصے کے دوران عام افراد کے قتل کی وارداتوں میں بھی ساٹھ فیصد کمی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔گزشتہ 18ماہ میں کراچی میں بم دھماکوں کے واقعات میں 48 فیصد، گینگ وار کے نتیجے میں قتل کے واقعات میں 43 فیصد جبکہ لاشیں ملنے کے واقعات میں بھی 35 فیصد کمی دیکھی گئی۔جنوری 2014 سے اکتوبر 2015 تک فرقہ وارانہ کلنگ کے واقعات میں29 فیصد کمی ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…