ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں کا مسئلہ حل،حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں فیسوں کے تعین کے لئے ان سکولوں کو درجہ اے اور درجہ بی کیٹگری میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے،درجہ اے میں ان سکولوں کو شامل کیا جائے گا جن کی ماہانہ فیس 10ہزار یا اس سے اوپر ہے جبکہ درجہ بی میں شامل تعلیمی اداروں کی فیس 4ہزار تا 10ہزار روپے تک ہو گی -اس سلسلے میں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت سکول مالکان اور پیرنٹس ایکشن کمیٹی کے ارکان کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری سکول عبدالجبار شاہین بھی موجود تھے-صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکولوں کی درجہ بندی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دونوں درجوں کے حامل سکولوں میں فیسوں میں ماہانہ اضافے کی شرح بھی مقرر کر دی جائے گی -انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کا مقصد بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ والدین کو ناروا مالی بوجھ سے بچانا ہے تاہم فری مارکیٹ اکانومی میں پرائیویٹ شعبے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنا بھی مناسب نہیں -البتہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پرائیویٹ شعبے کے لوگوں کو مناپلی قائم کر کے دوسرے طبقوں کا استحصال کرنے سے روکے-صوبائی وزیر نے کہا کہ سکولوں کی فیسوں کو 2014کی سطح پر فریز کرنے کے قانون پر عملدر آمد نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تاہم ایسے سکولوں کو سیل کرنا مناسب نہیں کیونکہ اس سے بچوں کی پڑھائی کا حرج ہو گا -تعلیمی اداروں کو سیل کرنے سے پہلے اظہار وجوہ سمیت ضابطے کی تمام کارروائی مکمل کی جانی چاہیے -اجلاس میں موجود پیرنٹس ایکشن کمیٹی ،ارکان نے بھی اپنا موقف پیش کیا-صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلی کی بھیجی جانے والی سمری فریقین کے موقف کی روشنی میں تیار کی جانے والی تجاویزپر مشتمل ہو گی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…