بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولرازم پسند ہے تو بھارت چلے جائیں ، سراج الحق

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

بنوں(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آج کا دن پاکستان کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ڈھاکہ جیل میں پاکستان سے محبت کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی حسن مجاہد کو پھانسی دیدی گئی۔ بنگلہ دیش میں پھانسیوں کی سزائیں عالمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اگر وزیر اعظم کو لبرل ازم اور سیکولر ازم پسند ہے تو بھارت چلے جائیں۔ جان دے سکتے ہیں لیکن لبرل ازم اور سیکولر ازم قبول نہیں۔ قرضے حکمران لیتے ہیں اور بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کی عزت ہے۔ خیبر پختونخوا کے وسائل پر مرکز قابض ہے ۔ ہم صوبے کے حقوق پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن مجید تھمائیں گے۔ اگر حکومت ملی تو طبقاتی نظام تعلیم ختم کردیں گے ۔ اگر صدر ، وزیر اعظم اور وزراء کا علاج مفت ہے تو غریب کا علاج بھی مفت ہوگا۔ پاکستان میں صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی جمہوری پارٹی ہے ۔ 2018ء پاکستان میں اسلامی انقلاب کا سال ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈان پارک بنوں میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ جلسے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، مرکزی رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان، صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر ڈاکٹر ناصر خان اور جماعت اسلامی ضلع لکی مروت کے امیر مفتی عرفان اللہ نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی نظریہ پاکستان کے حامیوں کو چن چن کر ختم کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کے صف اول کے قائدین کو پھانسی کی سزائیں دی گئی ہیں، لیکن حکومت پاکستان نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ان لوگوں کو پاکستان سے محبت اور نظریہ پاکستان سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔ ان کی قربانیوں نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے لئے مرنا اور خون بہانا جنت کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے پوری قوم کی دل آزاری ہوئی ہے کہ پاکستان کے عوام لبرل پاکستان چاہتے ہیں ۔ بابائے قوم قائد اعظم نے باربار اسلامی پاکستان کی بات کی ہے۔ ہم وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں کہ قائد اعظم سچے تھے یا آپ سچے ہیں۔ پاکستان کو لبرل ازم کی طرف دھکیلنا شہدا کے خون سے غداری ہے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ آئی ڈی پیز کے ساتھ سخت ظلم ہوا ہے۔ انہیں 24گھنٹوں کے نوٹس پر اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ لیکن حکومت ابھی تک آپریشن کے ختم ہونے کی آخری تاریخ نہیں دے سکی۔ خود حکومت کا دعویٰ ہے کہ 85فیصد علاقہ کلئیرہوچکا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے علاقوں میں واپس بھیجا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت قائم ہوئی تو یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے۔ غریبوں اور مہلک بیماریوں کا علاج مفت کریں گے۔ بے گھر افراد کو گھر مہیا کئے جائیں گے۔ ستر سال سے زائد عمر کے مرد ، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو وظیفہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں پراپرٹیاں بن چکی ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں بار بار قائم ہوتی رہی ہیں ۔ ان دونوں جماعتوں نے ملک کی آزادی کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ اس وقت اسلامی ممالک کو اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ حکمران یہ اتحاد قائم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام اسلامی انقلاب کی راہ تک رہے ہیں۔ 2018ء تبدیلی کا سال ہوگا ۔ اسلامی پاکستان سے ہی ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ۔ ہم ظالم کے خلاف جنگ کرنے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے لئے اٹھے ہیں ۔ قوم اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کی اس تحریک میں ہمارا ساتھ دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…