اسلام آباد (نیوزڈیسک) عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا.تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے منگل کو پشاور کی اپنی نیوز کانفرنس میں اپنی طلاق کے حوالے سے سوال کے جواب میں جس ناشائستگی کا مظاہرہ کیا ہے اور صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا ہے اس پر میڈیا کے حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ خان نے طلاق کے بعد سوچ سمجھ کر اپنی اولین نیوز کانفرنس کیلئے پشاور کا چنائو کیا تھا، جہاں ان کی پارٹی حکمراں ہے،سوشل میڈیا پر طلاق کے اسباب اور عمران خان کی سابق اہلیہ کے خلاف کردار کشی کی چلائی جارہی ہولناک مہم سے پیدا شدہ سوالات خان کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہیں گے جب تک وہ ان کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہیں دیتے۔ صحافتی حلقوں میں عمران خان کے رویئے پر شدید مزاحمت پائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے مزاج کے خلاف سوال کئے جانے پر فاشسٹ طریق کار اختیار کیا جس میں سوال کرنے والے صحافی کیلئے موجود دھمکی کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی سیاستدان جب عوامی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو معروف جمہوری اصولوں کے تحت اس کی کوئی شے نجی نہیں رہ جاتی، اس کا طرز زندگی ملکیت، دوسروں سے برتائو، تراش خراش، لباس، طعام و خوراک اور خاندان کے بارے میں جاننا عوام کا حق ٹھہرتا ہے۔ اس سلسلے میں جمہوری ممالک میں لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور آئے روز نت نئی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔روزنامہ جنگ کے سینئرتحقیقاتی صحافی محمدصالح ظافرکی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کررکھا ہو کہ وہ ملک کا وزیراعظم بنے گا، اگر وہ آج کسی خاتون سے اچانک شادی کرلے اور محض چالیس ہفتے بعد اسے توہین آمیز انداز میں طلاق دیدے جس کے ساتھ ہی اس کی سابقہ منکوحہ کے خلاف اس کے حامی سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلادیں تو اس کی دوسروں کو پہچاننے اور شناخت کرنے کے صلاحیتوں کے بارے میں لازماً شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اور طرح طرح کے سوالات اٹھیں گے۔ ان سوالات کا جواب کوئی دوسرا شخص نہیں خود اسے ہی دینا ہوگا۔ اس کے فیصلے اور ان کی بناوٹ اور شکست و ریخت سے ہی اس کی شخصیت کا سراغ ملے گا۔ عمران خان کی شادی ہرگز سادہ معاملہ نہیں تھا، دونوں لاکھوں کروڑوں افراد کے درمیان زیربحث آگئے۔ گھر گھر میں ان کے بارے میں تبصرے ہونے لگے اور ہر شخص یہ اندازے لگانے میں مصروف تھا کہ ادھیڑ عمری بلکہ بڑی عمر کی اس شادی کی پشت پر کونسے عوامل کارفرما ہیں پھر ان کے شب روز کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے مسلسل اطلاعات فراہم کی جاتی رہیں۔ شادی کا اعلان بڑے دھوم دھڑکے سے کیا گیا، ہر روز جوڑے کی نت نئی تصاویر جاری کی گئی، دونوں نے بار بار ذرائع ابلاغ اور ٹیلی ویژن پر آکر اہم قومی امور کےبارے میں خیال آرائی کی کبھی دونوں نے باہم تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور کبھی وہ الگ الگ پارٹی کے جلسوں سے مخاطب ہوتے رہے۔ ان کی شادی کے بعد تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی، ان تمام باتوں کے بعد دونوں میں اچانک طلاق کا اعلان ہونا ہر شخص کیلئے باعث استعجاب تھا۔
عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم(تیسرا حصہ)
-
سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق
-
بچی کو 16 کروڑ روپے کا زندگی بچانے والا انجیکشن لگادیا گیا
-
سکولوں میں داخلے کیلئے عمر کی نئی حد مقرر، والدین کی پریشانی میں اضافہ
-
سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں بڑی کمی ہوگئی
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
فنکشن سے واپسی پر گاڑی روک کر 15 افراد کی خواجہ سرا سے اجتماعی جنسی زیادتی اور تشدد کیس
-
شوہر کی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی انٹری پر دولہا اور دلہن فرار
-
سعودی عرب کا اعتراض، پاکستان نے سوڈان کیساتھ ڈیڑھ ارب ڈالرز کے ہتھیاروں اور لڑاکا طیاروں کی ڈیل مؤخ...
-
اسلام آباد،وی آئی پی روٹ سے جعلی خاتون ٹریفک پولیس اہل کار گرفتار
-
چین سے سامان لانے والے تاجروں کے لیے ٹیکس چھوٹ! بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمتوں میں کمی
-
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ پاکستان روانہ، ایران امن مذاکرات میں پیش رفت کی امید



















































