جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) عمران خان نے صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا.تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے منگل کو پشاور کی اپنی نیوز کانفرنس میں اپنی طلاق کے حوالے سے سوال کے جواب میں جس ناشائستگی کا مظاہرہ کیا ہے اور صحافیوں کے سوال کرنے کے استحقاق کو چیلنج کردیا ہے اس پر میڈیا کے حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ خان نے طلاق کے بعد سوچ سمجھ کر اپنی اولین نیوز کانفرنس کیلئے پشاور کا چنائو کیا تھا، جہاں ان کی پارٹی حکمراں ہے،سوشل میڈیا پر طلاق کے اسباب اور عمران خان کی سابق اہلیہ کے خلاف کردار کشی کی چلائی جارہی ہولناک مہم سے پیدا شدہ سوالات خان کا اس وقت تک تعاقب کرتے رہیں گے جب تک وہ ان کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہیں دیتے۔ صحافتی حلقوں میں عمران خان کے رویئے پر شدید مزاحمت پائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے مزاج کے خلاف سوال کئے جانے پر فاشسٹ طریق کار اختیار کیا جس میں سوال کرنے والے صحافی کیلئے موجود دھمکی کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کوئی سیاستدان جب عوامی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو معروف جمہوری اصولوں کے تحت اس کی کوئی شے نجی نہیں رہ جاتی، اس کا طرز زندگی ملکیت، دوسروں سے برتائو، تراش خراش، لباس، طعام و خوراک اور خاندان کے بارے میں جاننا عوام کا حق ٹھہرتا ہے۔ اس سلسلے میں جمہوری ممالک میں لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور آئے روز نت نئی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔روزنامہ جنگ کے سینئرتحقیقاتی صحافی محمدصالح ظافرکی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کررکھا ہو کہ وہ ملک کا وزیراعظم بنے گا، اگر وہ آج کسی خاتون سے اچانک شادی کرلے اور محض چالیس ہفتے بعد اسے توہین آمیز انداز میں طلاق دیدے جس کے ساتھ ہی اس کی سابقہ منکوحہ کے خلاف اس کے حامی سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلادیں تو اس کی دوسروں کو پہچاننے اور شناخت کرنے کے صلاحیتوں کے بارے میں لازماً شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اور طرح طرح کے سوالات اٹھیں گے۔ ان سوالات کا جواب کوئی دوسرا شخص نہیں خود اسے ہی دینا ہوگا۔ اس کے فیصلے اور ان کی بناوٹ اور شکست و ریخت سے ہی اس کی شخصیت کا سراغ ملے گا۔ عمران خان کی شادی ہرگز سادہ معاملہ نہیں تھا، دونوں لاکھوں کروڑوں افراد کے درمیان زیربحث آگئے۔ گھر گھر میں ان کے بارے میں تبصرے ہونے لگے اور ہر شخص یہ اندازے لگانے میں مصروف تھا کہ ادھیڑ عمری بلکہ بڑی عمر کی اس شادی کی پشت پر کونسے عوامل کارفرما ہیں پھر ان کے شب روز کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے مسلسل اطلاعات فراہم کی جاتی رہیں۔ شادی کا اعلان بڑے دھوم دھڑکے سے کیا گیا، ہر روز جوڑے کی نت نئی تصاویر جاری کی گئی، دونوں نے بار بار ذرائع ابلاغ اور ٹیلی ویژن پر آکر اہم قومی امور کےبارے میں خیال آرائی کی کبھی دونوں نے باہم تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور کبھی وہ الگ الگ پارٹی کے جلسوں سے مخاطب ہوتے رہے۔ ان کی شادی کے بعد تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوئی، ان تمام باتوں کے بعد دونوں میں اچانک طلاق کا اعلان ہونا ہر شخص کیلئے باعث استعجاب تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…