ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

پانچ سموں کی اجازت سے متعلق پی ٹی اے حکام سے چوبیس گھنٹوں میں جواب طلب

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے پانچ سموں کی اجازت کے بارے میںپی ٹی اے حکام سے چوبیس گھنٹوں میں جواب طلب کیا ہے جبکہ عدالت نے بلوچستان بدامنی کیس بھی مذکورہ مقدمے کے ساتھ لگانے کا حکم دیا ہے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کو بتایا جائے کہ پانچ سموں کے اجراء کی اجازت کیوں دی گئی جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا ہے کہ کراچی میں ناخوشگوار واقعات میں موبائل فون سموں کو استعمال کیا گیا اس ایشو کو سپریم کورٹ نے سب سے پہلے اٹھایا ۔ غیر قانونی سموں کا استعمال اب بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے پانچ سموں کے اجراءبارے مقدمے کی سماعت کی اس دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اس بات کی وضاحت ہونی چاہئے کہ آخر پانچ سموںکا اجراءکس وجہ سے کیا جاتا ہے ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس اپنے موقف سے عدالت کو آگاہ کیا ۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کا معاملہ بلوچستان بدامنی کیس میں بھی زیر بحث رہا ہے اس کو بھی اس مقدمے کے ساتھ لگایا جائے عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج جمعرات تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…