پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سانحہ منیٰ؛ سعودی وزارت صحت نے 515پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کر دی

datetime 31  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن)سانحہ منیٰ میںسعودی وزارت صحت نے 515پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور کی ناکامی اور پاکستانی حکومت کے سفید جھوٹ سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔فہرست جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور سے استعفی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ،سعودی وزارت صحت نے سانحہ منی کے حوالے سے 187صفحات پر مشتمل شہدا کی فہرست جاری کردی ہے جس میں شہدا کی کل تعداد 7477جن میں 515پاکستانی ،1511سعودی شہری،321ایرانی ،444مصری،316انڈین،453انڈونیشن،307نائجرین سمیت دیگر60 ممالک اور غیر شناخت کے حامل حجاج کرام کی بھی فہرست جاری کر دی گئی ہے ۔غیر شناخت کے حامل شہدا کی تعداد 1507بتائی گئی ہے ۔آن لائن ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور نے 215افراد سے متعلق معلومات دیکر اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کی تاہم سعودیہ حکومت نے تما م تر جھوٹ سے پردہ چاک کر دیا ہے ۔قبل ازیں بھی سینکڑوں کی تعداد میں زخمی افراد سے متعلق آن لائن کو ذرائع نے بتایا تو اس حوالے وزارت مذہبی امور تاحال تردید نہ کر سکی ہے ۔وزیر اعظم ہاﺅس میں سانحہ منی کے حوالے سے جو سیل قائم کیا گیا تھا وہ بھی سعودی حکومت سے کوئی خاطر خواہ معلومات حاصل نہ کر سکا اور جس پر وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سعودیہ بھیجا گیا تاہم انہیں بھی کسی ہسپتال نہ جانے دیا گیا اور نہ ہی سعودی حکومت نے شہدا اور زخمیوں کی تعداد بتائی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی مذہبی امور سردار یوسف نے اپنی ناکامی کا ملبہ افسران وزارت اور ایک میڈیا کوارڈینٹر پر ڈالتے ہوئے انہیں وزارت میں آنے سے منع کر رکھا تھا تاہم وزیر اعظم ہاﺅس نے سعودی وزارت صحت سے لسٹ جاری ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے ایک سینئر وزیر کو ٹاسک دیدیا ہے جیسے ہی لسٹ کی تصدیق ہو جائیگی اس کے بعد وفاقی وزیر کی نااہلی پر ان سے استعفی طلب کیا جائیگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو قریبی حلقوں نے بھی مشورہ دیا ہے کہ وزارت مذہبی امور کی ناکامی اور ناقص حکمت عملی پر ان سے وضاحت طلب کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…