بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پشاور جیل میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا, تفتیش شروع

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور ( نیوزڈیسک)پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعہ کی انکوائری شروع کر دی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے تاہم خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔پولیس نے بتایا کہ بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاسیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھاایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…