ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور جیل میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا, تفتیش شروع

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور ( نیوزڈیسک)پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعہ کی انکوائری شروع کر دی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے تاہم خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔پولیس نے بتایا کہ بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاسیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھاایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…