اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم نوازشریف پنجاب کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی کارکردگی سے سخت ناخوش ہیں۔پنجاب کے دو اہم حلقوں سے انتخاب ہارنے کے بعد مسلم لیگ ن نے از سر نو اپنی پالیسی کا جائزہ لینے فیصلہ کیا ہے۔بلدیاتی انتخابات میں ضمنی انتخاب جیسے نتائج سے بچنے کے لئیے سخت محنت اور بہتر امیدواروں کے چناوکی ہدایت کی گئی ہے۔پارٹی کے تمام رہنماوں اور وزراءکو عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا سختی سے حکم دیا گیا ہے۔جنگ رپورٹر حذیفہ رحمان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے پنجاب میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے سدباب جاننے کے لیے سینئر رہنماوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی کے بعض رہنماوں نے وزیراعظم کو حقائق سے ہٹ کر رپورٹس دیں ،جس سے مسلم لیگ ن دو حلقوں میں توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہ کرسکی۔پارٹی رہنماوں نے انتہائی وثوق سے وزیراعظم کو رپورٹ دی تھی کہ مسلم لیگ ن تینوں حلقوں میں بااسانی کامیاب ہوجائے گی۔این اے 122سردار ایاز صاد ق کے حلقے میں جیت کا مارجن 19فیصدجبکہ محسن لطیف کے صوبائی حلقے میں 16فیصد مارجن کی رپورٹ دی گئی تھی۔وزیراعظم کی اوکاڑہ سے آزاد امیدوار کو ٹکٹ دینے میں دلچسپی تھی مگر مقامی ایم پی ایز اور صوبائی قیادت نے چوہدری عارف کے بیٹے کو ٹکٹ دینے پر اصرار کیا اور بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن با آسانی سیٹ جیت لے گی۔ جبکہ ذرائع کے مطابق پنجاب اور ضلع اوکاڑہ کی مقامی قیادت سے آزاد امیدوار کو ٹکٹ نہ دینے پر بھی شدید ناراضگی کااظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کو ہدایت دی ہے کہ ضمنی انتخابات میں سخت محنت کی جائے اور امیدواروں کے چناومیں احتیاط برتی جائے۔