جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

’حکومت کا ریڈیو کو صعنت کا درجہ دینے پر غور

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کی ریٹنگ کی سیاست میں نہیں پڑنا چاہتا اور اس کا بندوبست نجی شعبے کو خود کرنا ہوگا۔پیمرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ملک میں ایف ایم ریڈیو کو ایک صعنت کا درجہ دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ اس کی ترقی ممکن ہوسکے۔یہ باتیں پیمرا کے عبوری چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے بی بی سی ورلڈ سروس کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایف ایم ریڈیو کے مستقبل کے بارے میں ایک روزہ سیمینار سے خطاب میں کیں۔پاکستان میں ٹی وی کے برعکس ریڈیو کی ریٹنگز کا کوئی انتظام نہیں لہذا کسی کو زیادہ نہیں معلوم کہ کون سا سٹیشن کتنا سنا جاتا ہے اور سامعین کیا زیادہ سنا پسند کرتے ہیں۔؟سیمینار میں اس شعبے سے وابستہ ملک بھر سے سو سے زائد مالکان اور ماہرین نے شرکت کی۔جب میں نے ادھار لے کر اپنا ریڈیو شروع کیا تو بی بی سی کی خبریں چلانے پر مجھے غدار کہا گیا لیکن میں خوشی ہوں کہ بی بی سی اور پیمرا اکٹھے اس شعبے کی ترقی کے لیے سرگرم ہیں۔اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ویہاڑی سے ایف ایم پاور 99 کے سربراہ نجیب احمد کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اس شعبے میں پاکستان میں ٹیلنٹ بھی ہے، ٹیکنالوجی بھی ہے لیکن بدقسمتی سے مقصد واضح نہیں ہے۔انھوں نے کہا ’ میرے نزدیک دو افراد کو بٹھا کر بحث کروانا ریڈیو کا کوئی مواد نہیں ہے۔ ہمیں مواد کا ایک قومی ذخیرہ بنانا چاہیے تاکہ سننے والوں کو بہتر مواد تیار کرکے دیا جاسکے۔‘ایف ایم مالکان کی یہ شکایت رہی کہ پیمرا نے ریڈیو کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے لیکن اب کچھ عرصے سے رابطہ بڑھے ہیں۔نیعم مرزا کا کہنا تھا ’پیمرا نے اس سال یہ تیسری کانفرنس منعقد کی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ریگولیٹری ادارہ اب ریڈیو کو بھی سنجیدگی سے لیتا ہے۔‘ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل مرتضی سولنگی نے اپنے خطاب میں ریڈیو کے نجی شعبے کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے مسائل درپیش ہیں، سرکاری اور نجی سٹیشنوں کے لیے برابر کے مواقعوں کی مشکل بھی درپیش ہے۔انھوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے چلائے جانے والے ایف ایم سٹیشنوں کا بھی ذکر کیا جو ان کے بقول کسی پاکستانی ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ہیں۔ایف ایم 103 کے سربراہ عمران باجوہ نے کہا کہ جب انھوں نے ادھار لے کر اپنا ریڈیو شروع کیا تو بی بی سی کی خبریں چلانے پر انھیں غدار کہا گیا لیکن انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ بی بی سی اور پیمرا اکٹھے اس شعبے کی ترقی کے لیے سرگرم ہیں۔اکثر شرکا کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان میں ریڈیو کا مستقبل تابناک ہے بس اگر کمی ہے تو اچھے معنی خیز اور تخلیقی مواد کی جس سے ریڈیو اپنے روٹھے ہوئے سامعین کو واپس لا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…