بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کسان ریلیف پیکیج‘بلدیاتی الیکشن پر اثر انداز نہیں ہوگا

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے کسانوں کے لئے اعلان کئے جانے والے اربوں روپے کے ریلیف پیکج کا دفاع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات متاثر نہیں ہونگے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان افتخار راجہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کسانوں کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کئے جانے والے ریلیف پیکیج سے انتخابات کے ضابطہ اخلاف کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ پیکیج صرف پنجاب اور سندھ کے لئے نہیں ہے بلکہ ملک بھر کے کسانوں کے لئے ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن اور پلانگ کمیشن کے حکام نے ایک اجلاس میں شرکت کے دوران یہ فیصلہ کیا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسی بھی قسم کے پیکج کا اعلان اور نئے فنڈز جاری نہیں کریں گی۔اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت کے کسانوں کے لئے اعلان کئے جانے والے ریلیف پیکج کو مسترد کرتے ہوئے اسے چھوٹ کا پلندا اور مسلم لیگ ن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے اعلان کیا جانے والا پیکیج حقیقت اور سچائی سے بہت دور ہے اور اس کا مقصد کسانوں کو دھوکا دینا ہے۔انھوں نے دبئی سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پیکیج ’بہت کم اور بہت دیر‘ سے آیا جبکہ اس میں سرمایہ کاری کے ذرائع کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ جس وقت کسان مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کررہے تھے کہ انھیں تبائی سے بچایا جائے اس وقت حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کررہی تھی، اور جیسے ہی بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کا اعلان کیا گیا تو ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پی پی کے دور حکومت میں زراعت کے شعبے سے ترقی کی جس سے ملک کے زر مبادلہ میں اضافہ ہوا جو کہ کسانوں کے لئے ریلیف اور مجموعی خشحالی کا باعث بنا۔آصف زرداری نے حکومت کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ذراعت کے شعبے سے منسلک کروڑوں لوگوں کو نظر انداز کرکے چند افراد کے فائدے کے لیے میٹرو بس جیسے منصوبوں پر خرچ کررہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…