بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماءجان اچکزئی نے پارٹی کوالوداع کہہ دیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آبا(نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق مرکزی ترجمان اور جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی جان اچکزئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا.جان اچکزئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جے یو آئی (ف) میں ان کا اچھا وقت گزرا اور انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو ایک جہاندیدہ اور محب وطن سیاست دان پایا جبکہ انھیں مولانا کی بھرپور حمایت اور سر پرستی بھی حاصل رہی.تاہم جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے دوسرے رہنما ان کے موقف کو سمجھنے سے قاصر نظر آئے اور بعض رہنماؤں نے اُن کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا، جس کا انہیں دلی دکھ ہوا، خصوصاً اس بات سے کہ اُن کی ذات کو حدفِ تنقید بنانے سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔جان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر جے یو آئی (ف) کا موقف اپنی انتہائی صلاحیت کے مطابق پیش کیا اور تقریباً تن تنہا ہی ہر سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی پر ہونے والی ہر تنقید کا بھرپور جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے منفی اور بلاجواز مہم کے حوالے سے انھوں نے آواز اٹھائی تاہم یہ سلسلہ رک نہیں سکا اور ان حالات میں کہ جب اپنی ہی پارٹی کے رہنما ان کا ساتھ نہیں دے رہے، ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ پارٹی کے ترجمان کے طور پر میڈیا یا کسی بھی دوسرے فورم پر اپنا کردار ادا کرسکیں.جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ وہ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جے یو آئی (ف) کے ان رہنماؤں کے ساتھ چلنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔جان اچکزئی کے مطابق وہ پارٹی کے کسی رہنما کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتے، لہذا دُکھی دل کے ساتھ علیحدگی اختیار کررہے ہیں.خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جان اچکزئی کو اپریل 2013 میں اپنا میڈیا کو آڈینیٹر مقرر کیا تھا.بعد ازاں عمران خان کے حوالے سے نامناسب بیان پر ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…