پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماءجان اچکزئی نے پارٹی کوالوداع کہہ دیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آبا(نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق مرکزی ترجمان اور جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی جان اچکزئی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا.جان اچکزئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جے یو آئی (ف) میں ان کا اچھا وقت گزرا اور انھوں نے مولانا فضل الرحمان کو ایک جہاندیدہ اور محب وطن سیاست دان پایا جبکہ انھیں مولانا کی بھرپور حمایت اور سر پرستی بھی حاصل رہی.تاہم جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کے دوسرے رہنما ان کے موقف کو سمجھنے سے قاصر نظر آئے اور بعض رہنماؤں نے اُن کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا، جس کا انہیں دلی دکھ ہوا، خصوصاً اس بات سے کہ اُن کی ذات کو حدفِ تنقید بنانے سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔جان اچکزئی نے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر جے یو آئی (ف) کا موقف اپنی انتہائی صلاحیت کے مطابق پیش کیا اور تقریباً تن تنہا ہی ہر سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی پر ہونے والی ہر تنقید کا بھرپور جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے منفی اور بلاجواز مہم کے حوالے سے انھوں نے آواز اٹھائی تاہم یہ سلسلہ رک نہیں سکا اور ان حالات میں کہ جب اپنی ہی پارٹی کے رہنما ان کا ساتھ نہیں دے رہے، ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ پارٹی کے ترجمان کے طور پر میڈیا یا کسی بھی دوسرے فورم پر اپنا کردار ادا کرسکیں.جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ وہ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جے یو آئی (ف) کے ان رہنماؤں کے ساتھ چلنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔جان اچکزئی کے مطابق وہ پارٹی کے کسی رہنما کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتے، لہذا دُکھی دل کے ساتھ علیحدگی اختیار کررہے ہیں.خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے جان اچکزئی کو اپریل 2013 میں اپنا میڈیا کو آڈینیٹر مقرر کیا تھا.بعد ازاں عمران خان کے حوالے سے نامناسب بیان پر ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…