اختیار کریں گے، آج کے اجلاس میں متعلقہ ادارے ان کی گرفتاری سے متعلق حالات و وجوہات پر کیا رپورٹ پیش کریں گے، قائم علی شاہ کے مؤقف اپنانے کا انحصار اس پر ہو گا، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کراچی کی صورتحال پر اجلاس کو بریفنگ دیں گے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کریں گے ، گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح کر دیا تھا کہ کراچی آپریشن میں سیاسی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے صورتحال بہت گنجلک ہے گزشتہ پانچ روز سے مذاکرات میں مکمل ڈیڈ لاک ظاہر کرتا ہے کہ حکومت الطاف حسین کی براہ راست یا ریکارڈ شدہ تقریر کے حوالے سے اس کا مطالبہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں، واضح رہے کہ حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں الطاف حسین کے خلاف درخواست میں اب تک کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا ہے ایم کیو ایم کے25ارکان قومی، 51ارکان سندھ اسمبلی اور8سینیٹرز کے استعفے اسپیکرز اور چیئرمین سینیٹ کے پاس ہیں، حکومت چاہتی ہےایم کیو ایم پارلیمنٹ میں واپس آ جائے لیکن مذاکرات کی بحالی کے لئے کوئی گرین سگنل نہیں دیا، اگر مدارس سے متعلق مذہبی رہنما ئوں کے تحفظات کو وزیراعظم ، آرمی چیف، ڈی جی آی ایس ایس کی اعلیٰ ترین سطح پر دور کیا جا سکتا ہے تو ایم کیو ایم کی شکایات کو بھی دور کیا جا سکتا ہے تاکہ آپریشن سیاست زدہ نہ ہو۔ زیادہ ذمہ داری ایم کیو ایم پرآتی ہے اگر وہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں سیاسی مقام چاہتی ہے تو اس کو بعض اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ وہ الطاف حسین کی تقریر کا کیس سپریم کورٹ پر چھوڑ سکتی (جیسا کہ انہوں نے فیصلہ چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے) اور اسحاق ڈار سے بات چیت بحال کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کہ اس کو دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی زیادہ حمایت حاصل نہیں، یہ زیادہ بہتر ہے کہ ایم کیو ایم پارلیمنٹ میں واپس آ جائے کیونکہ صورتحال خصوصاً پی پی سے اختلافات میں شدت کے باعث ماحول ایجی ٹیشن کے لئے مناسب نہیں اسٹیبلشمنٹ سے حکومت اور وفاق سے سندھ تک تمام محاذ کھول لینا خراب سیاسی سوچ ہو گی، بہرحال سب ایپکس کمیٹی کے آج کے اجلاس کے نتائج کے منتظر ہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں