ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

کراچی، 14برسوں میں 50ارب مالیت کی زمین قبضہ کرکے فروخت کردی گئی

datetime 10  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گزشتہ 14برسوں میں سرجانی ٹاﺅن کے علاقے میںسیاسی اور دیگر لینڈ گریبرزنے 50ارب روپے مالیت کی سرکاری 3ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کرکے فروخت کردیا۔ اس سلسلے میں کے ڈی اے سرجانی ٹاﺅن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے رینجرز سمیت دیگر اداروں کو 41لینڈ گریبرزکی فہرست بھیجی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس علاقے میں 150سے زائد لینڈ گریبرزسرکاری زمینوں کوٹھکانے لگانے میں ملوث ہیں جن میں سے بڑے 41لینڈ گریبرز کواگر گرفتار کرلیا جائے تو ان سے 50ارب روپے میں سے بڑی رقم کی ریکوری کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جاسکتے ہیں اپنی رپورٹ میں پی ڈی سرجانی ٹاﺅن شہزاد احمد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مذکورہ لینڈگریبرز کو گرفتار نہ کیا گیا تو علاقے میں باقی رہ جانے والی سرکاری زمینوں سے بھی حکومت کو ہاتھ دھونا پڑیںگے۔ انہوںنے رینجرز اور دیگر اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سرجانی میں سخت ا?پریشن کرکے لینڈ گریبرز کو کفر کردار تک پہنچائیں اور قبضہ کی گئی سرکاری زمینوں کی واپسی کا بھی انتظام کریں جبکہ انہوں نے رینجرز سے کے ڈی اے کے سرکاری فلیٹس سے بھی قبضہ ختم کرانے میں مدد کی اپیل کی ہے جو 30سال قبل کےڈی اے ملازمین کےلیے تعمیر کیے گئے تھے مگر 20سال سے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور 20سالوں کے دوران قبضہ ختم کرانے کےلیے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوچکی ہیں۔ فہرست میں موجود لینڈ گریبرز کی جانب سے سرجانی ٹاﺅن کے علاقے میں کیے جانے والے قبضوں کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں جن کےمطابق ایک لینڈ گریبر نے سیکٹر L/1,5-A,5-Bاور 5-Dکے علاوہ پارکنگ ، کمرشل ، انڈسٹریل ، رہائشی اور سی آئیزپلاٹس پر قبضہ کیا ہے۔کراچی کے ایک بڑے لینڈ گریبر نے سیکٹر7-Dیاروگوٹھ، سیکٹر10شاہ بیگ،90گز کے روڈ سمیت رفاعی کمرشل اور دیگر پلاٹس پر قبضہ کیا ہے۔سیکٹر 4-C,7-D & 10آر آئیز اور سی آئیز نے سیکٹر 11-1,5-C، سیکٹر 02,04,05فلیٹس سائٹس 4-Bاور سیکٹر 06/07میں پہلے سے قرعہ اندازی میں الاٹ کیے گئےسرکاری پلاٹوں پر بھی لینڈ گریبرز نے قبضہ کرکے فروخت کردیااس کے علاوہ بھی دیگر سیکڑوں پلاٹس جس میں سیکٹر 4-Bسیکٹر07 اور قرعہ اندازی میں الاٹ کیےگئے کمرشل پلاٹ ، سیکٹر 4-Aسیکٹر4-Bاور 7-Dپارکنگ ایریا اور رفاعی پلاٹس، سیکٹر4-Aاور رفاعی پلاٹس، یاروگوٹھ سیکٹر 03اور 7-Dاور قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے گئے کمرشل اور انڈسٹریل پلاٹس پر بھی ان لینڈ گریبرز نے قبضہ کیا اور قیمتی سرکاری زمینیں سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں فروخت کردیں اور کروڑوں روپے کمائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…