جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

قبائلی علاقہ جات،خیبر پختونخوامیں ضم یا الگ صوبہ،بڑے اقدام کا فیصلہ ہوگیا

datetime 8  ستمبر‬‮  2015 |

جو بیرونی امداد مل رہی ہے وہ بھی اسی علاقے کی مرہونِ منت ہے لیکن یہ علاقہ ابھی بھی سب سے پسماندہ ہے۔ ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ان علاقوں کے عوام کو ان کے آئینی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس علاقے کے عوام کو اپنے مسائل اجاگر کرنے کے لیے کوئی مناسب فورم دستیاب نہیں ہے۔ساجد حسین طوری نے کہا کہ یا تو ان علاقوں کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے یا پھر اس کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ اگر حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرسکتی تو کم سے کم گلگت بلتستان کی طرح ان علاقوں میں ایگزیکٹیو کونسل ہی بنا دی جائے۔فاٹا سے منتخب ہونے والے رکنِ قومی اسمبلی غازی گلاب جمال کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان علاقوں کے عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ایگزیکٹیو کونسل بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کے حکام سے بھی بات ہوئی ہے جنھوں نے اس ضمن میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔غازی گلاب جمال نے کہا کہ سیفران کی وزارت نے بھی اس معاملے میں کچھ حد تک رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کے ماتحت فاٹاسیکرٹریٹ نے اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو ڈیموکریٹک علاقہ قرار دیا جائے اور ایگزیکٹیو کونسل فی الفور تشکیل دی جائے اور یہاں سے منتخب ہونے والے ارکان کو اس کونسل کا رکن منتخب کیا جائے جبکہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں اس کونسل کے ارکان کو براہ راست منتخب کیا جائے۔غازی گلاب جمال کے مطابق فاٹا کے عوام بھی یہ چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جائیں کیونکہ معمولی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے انھیں فاٹا سیکریٹیریٹ کا مرہون منت ہونا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…