ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

1965ء کی جنگ کے غازی کی کہانی، غازی کی زبانی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) 1965 کی جنگ میں پاکستان نے گھمنڈی دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، ہر سپاہی، ہر افسر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، کسی نے ارض پاک پر جان وار دی تو کوئی غازی ٹھہرا۔ ایسے غازیوں میں سے ایک ہیں بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد (ستارہ جرات)۔ وہ کہتے ہیں کہ موت میرے سامنے تھی، میں نے فیصلہ کیا کہ If I’ll die, I’ll die attacking them.چونڈہ کا محاذ، ٹینکوں کی بڑی جنگ، مد مقابل کئی گنا بڑی فوج ، دشمن پہ ارض پاک کا اک اک جوان بھاری پڑا۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق دوٹینک میری طرف آ رہے تھے، میرے ٹینک کی گن ناکارہو چکی تھی اور میں اکیلا تھا، لیکن فیصلہ کیا کہ بھاگنا نہیں اور میں آگے بڑھا، مجھے بڑھتا دیکھ کر نجانے بھارتی فوجیوں کے دل میں کیا آیا کہ وہ پیچھے چلے گئے۔ موقع ملتے ہی غازی محمد احمد نے اپنا ٹینک ایک نالے میں گھسایا اور اس کی گن کی پن تبدیل کر لی ، پھر چند منٹ میں دشمن کے کئی ٹینک تباہ کر کے اپنا اسکواڈرن بچا لیا۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق چار ٹینک ہمارے اسکوارڈن کے پیچھے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ میں ان کے پیچھے ہوں، میں نے اللہ کا نام لیا اور فائر شروع کر دیا، ایک ایک گولے میں ایک ایک ٹینک تباہ کیا۔ ستارہ جرات حاصل کرنے والے بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد جلتے ٹینک سے اپنے سپاہی کوبھی نکال لائے۔ان کا کہنا ہے کہ دشمن کا گولہ میرے ٹینک پر لگا اور immunition explode ہو گیا۔ میں نے سب کو کہا بیل آئوٹ، بیل آئوٹ اور ہم باہر آ گئے۔ میں نے دیکھا میرا لوڈر ٹینک کی کینوپی سے چلا رہا ہے، میں بھاگ کر گیا، ٹینک جل رہا تھا اور بہت گرم تھا،میرے ہاتھ کا گوشت ٹینک کے ساتھ رہ گیا مگر میں نے اسے کندھے پر بٹھایا اور نکال لایا، چند سیکنڈ بعد ہی دھماکہ ہوا۔1965 کے اس غازی کی بس اک حسرت رہ گئی اور وہ تھی شہادت۔انہوں نے روتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ جب اسپتال میں تھا تو میرے آنسو نہیں رکتے تھے ، واپس جانا چاہتا تھا، مگر شدید زخمی تھا۔ وہ سترہ دن گواہ ہیں کہ پاک فوج نے انتہائی کم تعداد اور معمولی جنگی سامان کے ساتھ دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…