جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میرے 6سی این جی اسٹیشن‘12کارخانے ہیں‘شعیب وارثی کا اعتراف

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سوئی سدرن گیس کمپنی کے گرفتار افسرشعیب وارثی نے تفتیشی افسران کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اس کے کراچی سمیت ملک بھر میں 6سی این جی اسٹیشن اور ایک درجن سے زائد برف کے کارخانے ہیںجو مختلف لوگوں کے نام سے چل رہے ہیں جبکہ کراچی ڈیفنس میں 4بنگلے کرائے پر دیئے ہوئے ہیں‘دوسری جانب ملزم کے قریبی ذرائع کا کہناہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ شعیب وارثی نے کوئی اعترافی بیان نہیں دیا‘اس ضمن میں جھوٹاپروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔جنگ رپورٹر آغا خالد کے مطابق شعیب وارثی نے اپنے اعترافی بیان میںسابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی ‘سابق وزیر ڈاکٹر عاصم اور نوید قمر کے دور میں گاﺅں گوٹھوں کے نام پر کی گئی اربوں روپے کی کرپشن سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ظفر اللہ جمالی نے بطوروزیراعظم اپنے گاﺅں روجھان جمالی کو گیس دینے کے لئے 32کلومیٹر طویل 4انچ قطرکی نئی لائن ڈلوائی جس پر کروڑوں روپے لاگت آئی ‘اسی طرح نوید قمر نے ٹنڈو محمد خان سمیت ارد گرد کے ایک سو سے زائد گاﺅں گوٹھوںکو نئے کنکشن دلوائے اور اربوں روپے کی لاگت سے نئی لائنیں بچھائی گئیں مگر ریکوری اس علاقے میں 20فیصد سے زیادہ نہیں جبکہ بلڑی شاہ کریم ، ٹنڈو محمد خان اورگرد کے گوٹھوں کو دیئے جانے والے کنکشن میں غیر معیاری پائپ استعمال کیاگیا اور سفارشی لوگوں سے تکنیکی کام کروائے گئے جس کی وجہ سے کروڑوں روپے ماہانہ کی گیس لیک ہورہی ہے اور اس سے مستقبل میں گیس کا بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔شعیب وارثی نے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا ہے کہ سفاری پارک کراچی ، سائٹ ، شیر شاہ میں37سی این جی پمپ اور بعض دیگر مقامات پر سوئی سدرن کے اپنےسی این جی پمپ تھے جن میں سے محکمہ کی ایک ہزار سے زائد گاڑیاں سی این جی بھر واتی تھیںان پمپوں کو جان بوجھ کر بند کردیا گیا اور سفارشی سی این جی پمس سے گیس حاصل کی جارہی ہے اور اس میں کروڑوں روپے کا کمیشن وصول کیا جارہا ہےاور ایسے معاملات میں ڈاکٹر عاصم بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے اور ان کی ہدایات پر نجی سی این جی پمپس سے گیس گاڑیوں میں بھروائی جانے لگی۔شعیب وارثی نے سابق ایم ڈی زہیر صدیقی کے متعلق بھی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں اور ان کا ڈاکٹر عاصم سے خصوصی تعلق بتایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…