جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ضرب عضب پر قومی خزانے سے 1.90 ارب ڈالر خرچ کرچکے، دفترخارجہ

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اور بھارت میں سرحدی کشیدگی کی صورتحال پر بات چیت کرنے کیلئے پنجاب رینجرز اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے حکام کی ملاقاتیں ممکنہ طورپر اسی ماہ میں ہوں گی، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب میں کامیابیاں حاصل ہوئیں ، ضرب عضب پر قومی خزانے سے ایک ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ کرچکے ،جنگ نمائندے کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمت کا عمل جاری رکھنے پر سہولت کار کا کردار اب بھی ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعہ کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح پر بھارت سے ہونیوالے مذاکرات کی منسوخی کے بعد رینجرز اور بی ایس ایف کے حکام کے درمیان طے شدہ ملاقات بھی منسوخ ہو گئی ہے ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طورپر یہ ملاقات رواں ماہ میں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہےاور اس کے کامیاب نتائج کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب اور آئی ڈی پیز کی نقل مکانی سمیت دیگر متعلقہ امور پر اب تک ایک ارب 90? کروڑ ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں اور یہ تمام اخراجات پاکستان نے اپنی جیب سے کئے ہیں جن میں کسی طرح کی بھی غیر ملکی مالی اعانت شامل نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان نے کسی ملک یا کسی غیر ملکی امدادی ادارے سے مدد کی درخواست کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بتایا کہ افغانستان میں امن واستحکام کیلئے پاکستان مفاہمتی عمل میں اپنا سہولت کار کا کردار اب بھی ادا کرنے کیلئے تیار ہے تاہم مذاکراتی عمل شروع کرنے کیلئے ا?غاز پاکستان نہیں کریگا یہ افغان حکام اور طالبان نے فیصلہ کرنا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس کے دورہ پاکستان میں انسداد دہشتگردی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر ترجمان نے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے دورہ کابل کی مصروفیات کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…