جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ریلوے کو لوٹ لیاگیا،حکومت بے بس

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کے بقایا جات کی ادائیگی کے علاوہ وزارت ریلوے قابضین سے زمین واہگزار نا کرا کر توہین عدالت اور توہین پارلیمنٹ کی مرتکب ہو رہی ہے آج سے ہی ریلوے کی زمین پر موجود ہر قسم کی تعمیرات کو گرا دینا چاہیے ۔ چیئر مین کمیٹی نے وزارت ریلوے کی طرف سے ریلوے کو پاو ¿ں پر کھڑا کرنے کے اقدامات کو سراہا چیئر مین کمیٹی نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں ایم پی اے کی سفارش پر سکولوں کے ہیڈ ماسٹر ڈی سی لگا دیے گئے اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کے اوپر کرپشن کے اقدامات ہیں اور بعض تو وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بھی نہیں جانتے ۔سینیٹر ہمدا للہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اردو کی بریفنگ ، اردو زبان میں اجلاسوں کی کاروائی کے واضع حکم کے باوجود وزارت ریلوے نے بریفنگ پیپر اردو میں فراہم نہیں کیا وزارت اور کمیٹی بھی بادی لنظر میں توہین عدالت کی مرتکب ہے اور کہا کہ جہاں صوبے ریلوے کو زمین متقل نہیں کر رہے وہاں سب سے زیادہ قبضے بھی دفاعی اداروں نے کئے ہوئے ہیں کیا کمیٹی دفاعی اداروں سے بھی ریلوے کی زمین واہگزار کرا سکتی ہے ۔ جس پر وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے آگاہ کیا کہ دفاعی اداروں نے ہی سب سے زیادہ ریلوے اراضی ریگولرائز کرائی ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے مزید بتایا کہ 32ارب کا خسارہ تھا جو مشکل سے کم کر کے 27ارب تک لے آئے ہیں صوبوں نے ریلوے زمین کیلئے تعاون نہ کیا تو سپریم کورٹ جائیں گے ۔ماضی میں ملی بھگت سے زمینو ں پر قبضوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ریلوے اراضی کا ملک بھر میں آڈٹ شروع کرا دیا گیا ہے ۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں آڈٹ معاملات میں مشکلات ہیں ۔دو سال کے اندر پاکستان ریلوے کی زمینوں کا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائز کر لیا جائیگا۔ ملک بھر میں 540ایکٹر سے زائد اراضی پر سرکاری ادارے قابض ہیں پاکستان ریلوے کی 251ایکڑ سے زائد اراضی دفاعی اداروں کے پاس ہے پنجاب میں سب سے زیادہ 1872ایکڑ اراضی پر پرائیویٹ افراد کا قبضہ ہے ۔پاک چین اقتصادری راہداری منصوبے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…