جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

لوگ فوج کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ،پیرپگارنے وجہ بتادی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

آکر ووٹ مانگتے ہیں ۔ سندھ حکومت کو دبئی میں بیٹھ کر چلایا جا رہا ہے ۔ سندھ کسی کی جاگیر نہیں ، جو اپنی مرضی کے تحت چلایا جائے ۔ سندھ میں 20 سال سے آڈٹ نہیں ہوا ۔ حکومت جس نظام سے چل رہی ہے وہ بدانتظامی کا شکارہے ۔ لیاری کے لوگ ہر چیز میں مار کھا رہے ہیں لیکن سندھ حکومت اسے اپنا گڑھ قرار دیتی ہے لیکن اس کی حالت زار پر توجہ نہیں دیتی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبے کی صورت حال بہت ناقص ہے ۔ صوبے کے گھر گھر میں بھوک ، افلاس اور بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ جمہوریت صرف انتخاب سے نہیں پہچانی جاتی ۔ اگر الیکشن سے جمہوریت پہچانی جاتی تو ہٹلر سے اپنے دور میں سب سے زیادہ ووٹ لےے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برائے نام جمہوریت چل رہی ہے ۔ عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں سندھ سے کاشت کاری ختم ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنگی رجحان کو ترجیح دی جا رہی ہے اور مذاکراتی پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے بڑے لیڈران یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں بس وہی درست ہے ۔ یہی سوچ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے کر جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کہتی ہے کہ انسانیت کے بانی ہیں اور ہم ہی اس کا بچاو ¿ کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغرب نے ہی انسانیت کا خاتمہ کیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما غوث علی شاہ نے کہاکہ وفاقی حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ جس طرح حکومت چلائی جا رہی ہے ، اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے اور سندھ ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا ۔ مقررین نے عبداللہ حسین ہارون کی تحریر کردہ کتاب کو سندھ کے حالات کی عکاسی قرار دیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…