جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لوگ فوج کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ،پیرپگارنے وجہ بتادی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

آکر ووٹ مانگتے ہیں ۔ سندھ حکومت کو دبئی میں بیٹھ کر چلایا جا رہا ہے ۔ سندھ کسی کی جاگیر نہیں ، جو اپنی مرضی کے تحت چلایا جائے ۔ سندھ میں 20 سال سے آڈٹ نہیں ہوا ۔ حکومت جس نظام سے چل رہی ہے وہ بدانتظامی کا شکارہے ۔ لیاری کے لوگ ہر چیز میں مار کھا رہے ہیں لیکن سندھ حکومت اسے اپنا گڑھ قرار دیتی ہے لیکن اس کی حالت زار پر توجہ نہیں دیتی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبے کی صورت حال بہت ناقص ہے ۔ صوبے کے گھر گھر میں بھوک ، افلاس اور بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ جمہوریت صرف انتخاب سے نہیں پہچانی جاتی ۔ اگر الیکشن سے جمہوریت پہچانی جاتی تو ہٹلر سے اپنے دور میں سب سے زیادہ ووٹ لےے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں برائے نام جمہوریت چل رہی ہے ۔ عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں سندھ سے کاشت کاری ختم ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنگی رجحان کو ترجیح دی جا رہی ہے اور مذاکراتی پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے بڑے لیڈران یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں بس وہی درست ہے ۔ یہی سوچ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے کر جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کہتی ہے کہ انسانیت کے بانی ہیں اور ہم ہی اس کا بچاو ¿ کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغرب نے ہی انسانیت کا خاتمہ کیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما غوث علی شاہ نے کہاکہ وفاقی حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ جس طرح حکومت چلائی جا رہی ہے ، اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے اور سندھ ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا ۔ مقررین نے عبداللہ حسین ہارون کی تحریر کردہ کتاب کو سندھ کے حالات کی عکاسی قرار دیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…