جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لوگ فوج کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ،پیرپگارنے وجہ بتادی

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

حلیم عادل شیخ ، عرفان اللہ مروت سمیت مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماو ¿ں ، بزنس کمیونٹی کے افراد اور عمائدین شہر نے شرکت کی ۔ پیر صاحب پگارا نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے الیکشن میں جو وعدے کےے وہ پورے نہیں ہوئے ۔ جس کی وجہ سے لوگ فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں اور لوگوں کا فوج پر اعتماد بڑھ رہاہے ۔ آصف علی زرداری کے بیان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو رہی ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہی کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو سندھ میں ہی آکر آنکھ کھلے گی ۔ سندھ میں کرپشن آخری حدود کو چھو رہی ہے ۔ اسی لےے کرپشن کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے ، ان پرکوئی نہ کوئی الزام تو ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (فنکشنل) بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی ۔ اپنے خطاب میں پیر صاحب پگارا نے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو سندھ کا یہ حال نہ ہوتا ۔ سندھ میں جتنی کرپشن ہے ، وہ کسی اور ملک میں نہیں ہے ۔ سندھ کرپشن کی ماں بن چکی ہے ۔ فوج اور رینجرز کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ ہماری حفاظت کرے ۔ موجودہ صورت حال میں کوئی بھی وفاق کی بات نہیں کر رہا ۔ ہر کوئی اپنی لائن کھینچ رہا ہے جو کہ ملک کے لےے خطرے کی علامت بن رہا ہے ۔ پیر صاحب پگارا نے کہا کہ کوئی زلزلہ آتا ہے یا سیلاب متاثرین کی مدد کے لےے بھی فوج آگے آتی ہے ۔ اگر کرپشن میں ملوث لوگوں یا چوروں کو بھی پکڑنا ہو تو فوج آگے آتی ہے لیکن سیاست دان کہیں نظر نہیں آتے ۔ اگر بھوکے پیاسے لوگوں کی مدد نہیں کی گئی یا ان کے مسائل حل نہ کےے گئے تو پھر عذاب ہی آئے گا اور ان سے حساب لینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ دوسرے ملک سے وفاداری نبھانے والے بھی پاکستان

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…