جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ابھی نہیں تو کبھی نہیں،پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

اور افغان خفیہ ایجنسی مل کر کام کر رہی ہیں۔ دہشت گردوں کی زیادہ تر قیادت اور ورک فورس افغانستان میں موجود ہے۔ پشاور سکول حملہ م ±لا فضل اللہ نے افغانستان میں بیٹھ کر کروایا تھاجس کے ثبوت پاکستان پیش کر سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف مہم سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں کمی آئی ہے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف سرکاری بیانات کا سلسلہ بھی ر ±کنا چاہیے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ طالبان کے خلاف طاقت کا استعمال دانشمندانہ آپشن نہیں ہے۔ طاقت کے استعمال کے اثرات دونوں ممالک پر آ سکتے ہیں تاہم طالبان کے ساتھ مذاکرات یا طاقت کا استعمال کا فیصلہ افغانستان کو کرنا ہے جبکہ پاکستان کو سہولت کار بنانے یا نہ بنانے کے فیصلے کا انحصار بھی افغانستان پر ہے۔ افغانستان کو مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم پاکستان افغانستان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی تجویز نہیں دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے طالبان کو مذاکرات کی میز پر بلوایا گیا تھا۔ بیشتر طالبان نمائندے مذاکرات میں شرکت کیلئے افغانستان سے آئے لیکن پھر م لا عمر کی موت کی خبر لیک کر دی گئی۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے اس معاملے میں پاکستان کی بدنیتی شامل ہے۔ لا عمر کی موت کی خبر مری امن عمل کے دوسرے دور سے دو روز قبل جاری کرنا پاکستان کے خلاف سازش تھی جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…