بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری ،مزید اہم شخصیات کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)پیپلزپارٹی کے رہنماءڈاکٹرعاصم حسین کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ (ف) کی اہم شخصیات کوبھی کرپشن مقدمات میں گرفتارکرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں ۔سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد ان کی گئی تفتیش کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاررورائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ہفتہ کو رینجرز نے ڈاکٹرعاصم حسین کے نارتھ ناظم آباد میں واقع ضیاالدین ہسپتال میں کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر یوسف ستار کو گرفتار کرلیا۔جبکہ آئندہ 48گھنٹوں کے دوران کرپشن میں ملوث پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم ،مسلم لیگ(فنکشنل) اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی گرفتاری کا امکان ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرعاصم سے تفتیش کے دوران کرپشن اور غیرقانونی قبضوں میں ملوث مزید 3 افراد کے نام سامنے آئے ہیں جن کی گرفتاری کے لئے رینجرز نے نارتھ ناظم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ضیا الدین ہسپتال کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹریوسف ستار کو گرفتارکرلیا جب کہ ڈاکٹرامتیاز ہاشمی اور ڈاکٹرصادق جعفری کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ رینجرز نے اسپتال میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور کئی اہم دستاویزات قبضے میں لیتے ہوئے ڈاکٹریوسف کو پوچھ گچھ کے لئے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضیاالدین اسپتال کے کینسروارڈ کے سیوریج نالے پر بننے، اسپتال بنانے کے لئے رقم حاصل کرنے کے ذرائع اور ہسپتال کے قریب گرانڈ پر قبضہ کرکے وہاں پارکنگ قائم کرنے سے متعلق بھی تفتیش شروع کردی جب کہ رینجرز کی جانب سے گرفتار کئے گئے ڈاکٹریوسف ستار کراچی میں واقع قطر اسپتال کے ایم ایس بھی ہیں۔دوسری جانب رینجرز کی تحویل میں موجود مشیر پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرعاصم کے دوران میں محکمہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں سیاسی دبا پر ڈھائی ہزار بھرتیاں کی گئیں جب کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں محکمے سے فارغ کئے گئے ملازمین کو دوبارہ بحال کر کے انہیں واجبات کی ادائیگی بھی کی گئی جس سے ادارے پر اضافی بوجھ ڈالا گیا جب کہ سوئی سدرن میں ساڑھے 5 سے 6 ہزار ملازمین کی گنجائش ہے جو بڑھا کر 11 ہزار کردی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سوئی سدرن کے اس وقت کے ایم ڈی عظیم احمد صدیقی نے سیاسی دبا میں آکر عہدے سے استعفی دے دیا تھا جب کہ ڈاکٹرعاصم کے دور میں سوئی سدرن میں ہونے والی بھرتیوں اور ترقیوں کی فہرستیں تیارکی جارہی ہیں۔ادھر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئندہ 48گھنٹوں کے دوران کرپشن میں ملوث پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم ،مسلم لیگ(فنکشنل) اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی گرفتاری کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق ان شخصیات پر زمینوں کی ہیرا پھیری اور غیر قانونی قبضہ میں ملوث ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی سندھ کے اعلیٰ سرکاری افسران کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…