ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، مظاہرین نے مردان میں گرڈسٹیشن جلادیا

datetime 7  اگست‬‮  2015 |

مردان (نیوزڈیسک) بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کےخلاف مردان میں مظاہرہ ،مظاہرین نے 220کے وی کے گرڈ سٹیشن کوآگ لگادی ہے ۔مظاہرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے چاراضلاع چارسدہ ،صوابی ،مردان ، نوشہرہ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مظاہرین نے گرڈ سٹیشن پرحملہ کردیااوراس کے بعد گرڈتباہ ہوگیاہے اورعلاقہ اندھیرے میں ڈوب گیاہے جبکہ وزارت پانی وبجلی کے اعلامیہ کے مطابق
صوبائی حکومت سے ملزمان کی گرفتاری کے لئے رابطہ کیاہے ۔مردان کے علاقے رشکئی میں یہ واقعہ پیش آیا۔ مردان کے علاقے رشکئی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ ڈنڈا بردار مظاہرین نے مردان شہر کی طرف مارچ کرتے ہوئے 220 کے وی گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور گرڈ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی جس سے کروڑوں روپے کی مشینری کو نقصان پہنچا ۔ مظاہرین نے ریکارڈ بھی جلا دیا اور گرڈ اسٹیشن کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر کے حالات پر قابو پایا۔ ترجمان وزارت پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ گرڈ اسٹیشن پر حملے سے مردان، مالاکنڈ، صوابی اور سوات میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ – بجلی زیادہ چوری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ ملزمان کوجلد گرفتارکرلیاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…