دوہزارکرپٹ افراد پاکستان سے فرارکی کوششوں میں مصروف

  منگل‬‮ 21 جولائی‬‮ 2015  |  15:37

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی سمیت سندھ بھر کے دو ہزار سے زائد سرکاری افسران ، انجینئر و سرکاری کام کرنے والے ٹھیکیدار، لینڈ گریبرز، ٹارگٹ کلر اور جرائم پیشہ عناصر ملک سے فرار ہونا چاہتے ہیں اوروہ اپنے کالے کرتوت چھپانے کےلئےکراچی ائر پورٹ سمیت ملک کے دیگر ائر پورٹس ایران، افغانستان کے بارڈر سمیت بلوچستان اور کراچی کی طویل ساحلی پٹی کو استعمال کرنا چاہتے ہیںاور اس کے لئے وزارت داخلہ کی پالیسی میں تبدیلی درکار ہے اور ایسے عناصر کا نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خاص طورپر سرحدی پٹی اور سمندر میں خدمات انجام


دینے والے اداروں کو فراہم کرنا ضروری ہے ایسے عناصر کی بڑی تعداد کا ریکارڈ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود ہےیہ تمام تفصیلات ایک اہم ادارے کی سرکاری رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں جو وزیر اعظم سمیت اعلی حکام کو بھیجی گئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ گزشتہ 24گھنٹو ں کے دوران ہٹائے گئے ایسے افسران کی اکثریت پہلے ہی ملک چھوڑ چکی ہے جو نیب یا دیگر اداروں کو مطلوب تھے ان میں کراچی کے دو سابق ڈپٹی کمشنر ز،ایک کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹراور ایک سرکاری ادارے کے سربراہ بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر کاضروری ریکارڈقانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود ہےمگر وزارت داخلہ کی جانب سے حال ہی میں بنائی گئی نرم پالیسی کی وجہ سے ایسے عناصر کے نام ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ڈالےجاسکتے جبکہ دو ڈپٹی کمشنر سمیت ایک درجن ایسے افسران اور انکے مددگار گزشتہ دو ماہ کے دوران ملک سے فرار ہوئے انہیں روکا جاسکتا تھا اور ان کے ضروری کوائف سمیت سفری تفصیلات سے بھی ادارے اگاہ تھے مگر قانونی مجبوریوں کی وجہ سے انہیں بروقت روکا نہ جاسکا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک اعلی ادارےکے اہم افسر کی جانب سے سائوتھ افریقہ کے طویل دورے اور وہاں کی حکومت سے کراچی کی پولیس کو مطلوب مفرور جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلر ز کو پاکستان کے حوالے کرنے پر کامیاب مذاکرات کے بعد وہاں سے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کا مواصلاتی نیٹ ورک کمزور ہوگیا ہے اور اکثر جرائم پیشہ عناصر سری لنکا ، نیپال ، تھائی لینڈ و دیگر یورپی دوردراز چھوٹے ملکوں کی طرف فرار ہورہے ہیںانہیں روکا جانا بھی ضروری ہےاور ایک محفوظ کمین گاہ کے ہاتھ سے نکل جانے پر ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ عناصر کی صفوں میں ہراس منٹ پایا جاتا ہےاور اسی وجہ سے کراچی سے بھی جرائم پیشہ لینڈ گریبرز اور ٹارگٹ کلرز کی بڑی تعدار فرار ہونے کےلئےمواقع تلاش کررہی ہے کیونکہ اب وہ سائوتھ افریقہ کی محفوظ جنت سے مایوس ہورہے ہیںاسی طرح ایسے سرکاری افسران جنہوں نے گزشتہ 15سالوں میں خوب لوٹ مار کی ہے اپنے بھاری بھرکم بینک بیلنس کے ساتھ دوبئی یا یورپی ملکوں کا رخ کررہے ہیںجہاں کی حکومتیں انویسٹمنٹ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی اور ان کو تحفظ بھی فراہم کرتی ہیںان ملکوں سے ایسے جرائم پیشہ عناصر کو واپس لانا بھی ضروری ہےاسی طرح رپورٹ میں دعوی کیاگیا ہے کہ گزشتہ 3روز کے دوران واٹر بورڈ کے سابق ہائیڈرینٹ انچارج بھی اس نرم پالیسی کی وجہ سے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیںجبکہ انہوں نے 2سالوں میں ایک ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی تھی اور نیب بھی ان کے خلاف تحقیقات کررہا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت جلد کراچی اپریشن کے تیسرے مرحلے کا اغاز ہونے والا ہے جس سے خوفزدہ ہوکربدعنوان افسران جن کی تعدار سینکڑوں میں ہیں۔ لینڈگریبرز، ٹارگٹ کلرز اور دیگر جرائم میں ملوث 2000سے زائد لوگ فرار ہونے کی تیاری کررہے ہیںوہ موقع کی تلاش میں ہیں اور ایسے بدعنوان عناصر کی بڑی تعدار اگر ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تو اپریشن کے حوصلہ افزانتائج حاصل نہ ہوسکیں گے