منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

زرداری کی ایم کیو ایم کے خدشات دور کرنے کی کوشش

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) اگرچہ سابق صدر آصف علی زرداری کی سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان اور سینیٹر رحمان ملک کے ساتھ جمعہ کے روز ہونے والی ملاقاتوں کو سرکاری طور پر ’’معمول کی ملاقاتیں‘‘ قرار دیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دونوں شخصیات سے کئی اہم مسائل خاص طور پر ایک پولیس افسر کے دعووں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔واضح رہے کہ مذکورہ پولیس افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ’’ملک دشمن‘‘ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔تجزیہ کار پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ ملاقات کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں، اس لیے کہ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا تھا کہ اس پریس کانفرنس کا زرداری، سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور ’’ایک تیسری شخصیت‘‘ کا براہِ راست تعلق تھا۔اس کانفرنس میں مذکورہ پولیس افسر نے الزام عائد کیا تھا کہ ہندوستانی ایجنٹوں نے ایم کیو ایم کے بہت سے کارکنوں کی تربیت کی تھی۔پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے دعوے کی سرکاری طور پر تردید نہیں کی، لیکن بظاہر یہ دکھانے کے لیے کہ وہ اس ’’دھماکہ خیز‘‘ پریس کانفرنس کے پیچھے نہیں تھی، اس پولیس افسر کا تبادلہ کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق زرداری اور عشرت العباد نے ’’خاص طور پر سندھ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات سمیت بعض اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران زرداری پیپلزپارٹی کے ساتھ اس کے تعلق کے حوالے سے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے خواہشمند دکھائی دیے، اور ایسا کرنے کے لیے انہیں ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ ملاقات نے ایک مناسب موقع فراہم کیا۔یاد رہے کہ گورنر سندھ دونوں سیاسی جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ یہ ملاقات مختصر تھی، اس لیے کہ زرداری بنیادی طور پر ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لیے گورنر ہاؤس گئے تھے۔اسی دوران زرداری سے بلاول ہاؤس پر ملاقات کے بعد سینیٹر رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی پارٹی کے دروازے ایم کیو ایم کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔انہون نے کہا کہ دو مہینے قبل کراچی کی سیکیورٹی صورتحال بدتر ہوگئی تھی، تو دونوں سیاسی جماعتوں نے ایک اتحادی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا، لیکن اقتدار کی شراکت کا فارمولہ اب بھی طے ہونا باقی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ’’جیسے ہی صورتحال تبدیل ہوئی، تو ہم دوبارہ نہیں مل سکے۔‘‘جب ان سے علیحدہ صوبے کے لیے ایم کیو ایم کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رحمان ملک نے کہا کہ اس طرح کا مطالبہ کرنا پارٹی کا جمہوری حق ہے، لیکن اس معاملے میں سندھ اسمبلی اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا فیصلہ حرفِ آخر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو مسلح افواج کے بارے میں ’’منفی بیان‘‘ نہیں دینا چاہیے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ کسی پولیس افسر کو کسی سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حوصلہ افزا رویہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیف ایم کیو ایم کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اگرچہ اس نے صوبائی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا کردار اختیار کرلیا ہے۔ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ ’’یہ سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ آپس میں خوشگوار تعلقات کو برقرار رکھیں، چاہے وہ حکومت میں شراکت دار ہوں یا اسمبلی میں سیاسی حریف۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…