اسلام آباد : جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الحمان نے اکیسویں آئینی ترمیم کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر دینی جماعتوں کے تحفظات دور نہ ہوئے تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ وفاقی دارلحکومت میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 21 ویں آئینی ترمیم متنازع ہے اورانتشار کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دینی جماعتوں کے تحفظات دورکرنے کے لئے اکیسویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کرے بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی آڑ میں مدارس کے خلاف کارروائی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئےقانون میں دہشت گردی کی تعریف پردینی جماعتوں کےتحفظات برقرارہیں جو حکومت کی جانب سے دور کئے جانے چاہییں۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں موجود دہشت گردوں کےخلاف کارروائی کریں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
سپریم کورٹ کا این اے 251 کا فیصلہ، خوشحال خان خٹک کامیاب قرار
-
پاک فضائیہ کی بمباری , افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات
-
دہشت گردی کا خطرہ، تھریٹ الرٹ جاری
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
امانت خان شیرازی
-
1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
-
ماہانہ 70 ہزار روپے کمانے کا موقع ! پاکستانی نوجوانوں کے لئے بڑی خوشخبری
-
پنجاب اسمبلی کے ملازم کی ایم پی اے کے کمرے سے لاش برآمد
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
ٹی20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل تک رسائی کیلیے پاکستانی ٹیم کو کیا کرنا ہوگا؟
-
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان آ گیا
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں



















































