ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے، سہیل آفریدی

datetime 26  ستمبر‬‮  2026 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے،

ملک میں ایک ہی شخص کی پالیسی چلتی ہے، جس کے نمائندے محسن نقوی ہیں،گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کرنی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے،ہم 4اکتوبر کو نکلیں گے اور واپسی حقیقی آزادی پر ہی ہوگی۔سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیاسی ذمہ داری جنید اکبر کی اور حکومتی ذمہ داری میری ہے، تاہم وہ عمران خان کے حکم پر تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4اکتوبر کو مارچ کے لیے تیاری مکمل ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کی آمدنی 64 ارب سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچائی ہے ، صوبائی ریونیو کو 200 ارب روپے تک لے جائیں گے،پشاور میں ترقیاتی کام اور پانی کی سطح بلند کرنے پر کام جاری ہے، ایک ہزار بستروں کا بے نظیر ہسپتال بھی بنایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ میں بھی ایک ہزار بستروں کا اسپتال بنارہے ہیں،ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے منصوبوں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری میں کوئی پسند ناپسند نہیں کی ، عالمی اداروں کے پی ڈیز کی تقرری میں ہر قسم کا دبائو مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی اور عالمی بینک کے 60 ارب روپے کے منصوبے ہیں،اگر کسی نے 7 سے 10 ارب روپے لیے ہوئے ہیں تو وہ ہضم نہیں کرپارہا،سیکیورٹی کے حالات دیکھنے والے دھمکیاں دے رہے ہیں، میں نے ان کے کام پر پانی پھیر دیا ہے، یہ سال امن، ترقی اور خوشحالی کا ہوگا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ فضول میں جھگڑے کیے جارہے ہیں،پاک افغان بارڈر کی بندش سے اس سال 7 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ سالانہ 10 ارب روپے آمدن متوقع ہوتی ہے،

وہاں سے آنے والے لوگوں پر پابندی کے باوجود دراندازی ہورہی ہے، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہمارے حق میں ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کرنی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے،بدامنی پھیلانے والوں کا بلاامتیاز خاتمہ پولیس کرے،ہم نے صوبائی ایکشن پلان بنا رکھا ہے اور حکام سے شیئر بھی کیا ہے، افغانستان کے ساتھ نیشنل جرگہ بنا کر بات کی جائے، ان کے پاس ہمارے ساتھ بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم 9ماہ سے ہر ادارے سے رجوع کررہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہورہی، اسی لیے مجبورا 27 ستمبر کی کال دی،18افراد کی ہفتہ وار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے عدالتی احکامات ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا،مرکزی حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ مارچ میں ابھی 7دن ہیں، اس دوران یہ بات کرلیں، ہمیں جنگلی اور دہشتگرد کہا گیا،وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان مجھے ٹی ٹی پی کی بی ٹیم قرار دیتا ہے، ان کا بیان پری پلان ہے،انہوں نے اتنی تیاری اس لیے کی ہے کہ عوام میں ان کے خلاف نفرت ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم 4اکتوبر کو نکلیں گے اور واپسی حقیقی آزادی پر ہی ہوگی، ہم مسلح جتھہ نہیں، سیاسی لوگ ہیں،مذاکرات سے ہم نے کبھی انکار نہیں کیا، مولانا ساتھ ہوں تو ویلکم کرتے ہیں،27ستمبر کی تاریخ پر محمود اچکزئی سے بات کی تھی اور ہماری تیاری مکمل ہے، مارچ میں تاخیر حکمت عملی کے تحت کی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں میں خوف اور افواہ جس نے پھیلائی، اس پر کارروائی ہوگی،

میں اسی مسجد میں گیا اور نماز جمعہ پڑھی،ریڈ زون میں کنٹینر لے کر آئے اور پھر ہٹا دیے گئے، ہم نے 4اکتوبر کے مارچ کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلسل ہمارے کام میں مداخلت کی جارہی ہے،شکیل خان کے معاملے میں ڈپٹی کمشنر سے زبردستی ایف آئی آر لکھوائی گئی،سرکاری ملازمین بے لگام لوگوں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں،اے سی کوہاٹ نے گریز کی پالیسی اپنائی تو میں نے اس کی ستائش کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کے ساتھ کچھ نہیں کیا جاسکتا،11 ارب روپے کے جہاز کی خریداری اچھی گورننس ہے؟ ہمیں ایسی گورننس نہیں آتی،ملکی قرضہ 43سے 97ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں ہر صورت مارچ کرنا ہے اور تیاری مکمل ہے، مس ایڈونچر ہوا تو 4اکتوبر سے پہلے بھی نکل سکتے ہیں، ملک میں ایک بندے کی پالیسی چلتی ہے جس کے نمائندے محسن نقوی ہیں،میرے لیے حکومت معنی نہیں رکھتی، میں عمران خان کا سپاہی ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرسی میرے اور میرے مقصد کے درمیان آئی تو اسے لات ماروں گا،بہادر شاہ ظفر نہیں، ٹیپو سلطان بننا چاہتا ہوں،گورنر راج لگا تو عوامی ری ایکشن بے مثال ہوگا،مجھے یہ افورڈ نہیں کرپائیں گے، گورنر راج ہو یا نااہلی، دونوں صورتوں میں۔انہوں نے کہا کہ اگر میں وزیراعلیٰ نہ رہا تو متبادل کا فیصلہ عمران خان کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…