جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

3سالہ قید مکمل، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل حالات پر اڈیالہ جیل انتظامیہ کی رپورٹ سامنے آگئی

datetime 5  اگست‬‮  2026 |

راولپنڈی (این این آئی)بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں 3سال مکمل ہوگئے ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے دستیاب سہولیات بارے رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہیں قید تنہائی میں رکھنے، امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید کردی۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جیلوں میں قید تنہائی کا نظام تقریبا ختم ہو چکا اب یہ رائج نہیں ، نہ ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں، اڈیالہ جیل میں کوئی بھی قیدی بشمول بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا، بانی پی ٹی آئی کو سزا ہو چکی وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے، ان کیساتھ کوئی امتیازی یا غیر مساوی برتا نہیں کیا جا رہا، البتہ ان کے بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے کچھ اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں۔رپورٹ کے مطابق عام قیدیوں کو بانی پی ٹی آئی کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی، بانی کو جو سہولیات حاصل ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے یہ قیدی تنہائی نہیں، بانی پی ٹی آئی کا سیل 7کمپائونڈز پرمشتمل ہے جن میں وہ دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں، صرف رات کے مخصوص اوقات میں بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں رہتے ہیں، جیل افسران اور عملہ بانی کی ضروریات کے حوالے سے وقتا فوقتا ان سے رابطے میں رہتا ہے مجھے بھی آگاہ کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل معمول کے مطابق بانی سے ملاقات کرتا ہے ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتا ہے، جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ ان کا معائنہ کرتے ہیں کھانے کی جانچ کرتے ہیں، بانی کا بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور ان کو بتایا بھی جاتا ہے، ضرورت پڑنے پر بانی کا اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بانی کے لیے ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو قدرتی روشنی ، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے، جیل مینوئل کے مطابق بانی کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے۔حکام کے مطابق بانی صبح لاک اپ کھلنے سے شام لاک اپ ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں دن بھر اپنی پسند کے مطابق سرگرمی کر سکتے ہیں، بانی کی قید کی جگہ محفوظ اور مکمل نگرانی میں ہے جہاں جیل عملہ مناسب تعداد میں موجود ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ میں اور جیل کے دیگر افسران بانی کے قید کی جگہ کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں، جیل قواعد کے مطابق بانی کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشری عمران سے ملاقات کی اجازت ہے، بانی پی ٹی آئی کو باقاعدگی سے اپنی پسند کے اخبارات اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق فرینڈ آف کورٹ کے طور پر سلمان صفدر نے 10 فروری 2026 کو بانی کے سیل کا معائنہ بھی کیا تھا، انہوں نے بانی کی رہائشی اور قیدی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں کہا گیا کہ بانی کی حراست اور رہائشی حالات مناسب اور اطمینان بخش ہیں، اور ان میں قید تنہائی کا معمولی سا بھی عنصر موجود نہیں، درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں لہذا استدعا ہے درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے۔جسٹس خادم حسین سومرو کل قید تنہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کرینگے، جیل سپریڈنٹ نے کیس میں اپنا جواب جمع کروادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…