پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سوات، کبل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5پولیس اہلکاروں سمیت 13افراد شہید،20سے زائد زخمی

datetime 3  اگست‬‮  2026 |

سوات/اسلام آباد(این این آئی)خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکے میں 13افراد شہید اور20سے زائد زخمی ہوگئے،

زخمیوں میں بعض کے حالت نازک ہے جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ دھماکے پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اظہار مذمت کیاہے۔تفصیلات کے مطابق سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر اتوار کی شام اس وقت خود کش دھماکہ کیا گیا جب تھانے کے قریب کبل چوک میں اولسی پاسون کی جانب سے امن کے لئے مظاہرہ کیا جارہا تھا۔ آر پی او ملاکنڈ ڈویژن سید فدا حسن شاہ کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 13افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ 14پولیس اہلکاروں سمیت 20سے زائدافراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈڈویژن سید فدا حسن شاہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملہ آور پولیس کمپانڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم ڈیوٹی پر تعینات پولیس جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے مرکزی گیٹ پر ہی روک لیا۔ اس دوران خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا ۔ آر پی او کے مطابق کمپانڈ میں کبل پولیس اسٹیشن، پولیس لائن کبل، سہولت مرکز اور دیگر اہم سرکاری دفاتر قائم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں شہید ہونے والوں میں 5پولیس اہلکار اور 8شہری شامل ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں کبل اور سیدو شریف ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا،

جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ، ریسکیو 1122اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حملے کی تحقیقات مختلف پہلوئوں سے جاری ہیں اور پولیس نے ملزمان اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب شہدا کی میتیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ضروری قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔دریں اثنائ،سوات میں کبل تھانے کے باہر ہونے والے دھماکے پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر حکام نے اظہار مذمت کیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تھانہ کبل کے قریب خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا اور اپنی زندگیاں قربان کرکے دوسروں کی زندگیاں بچانے والے پولیس اہلکاروں نے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔انہوںنے کہاکہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور دھماکے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والے اہلکاروں اور دیگر افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے والے امن دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں اور افواج پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے،

جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن کے قیام کو یقینی بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گرد اپنے بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور نہ ہی امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب ہوں گے۔گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سوات کے علاقے کبل میں مبینہ دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اے ایس آئی سمیت تمام شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی تمام شہدا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔انہوںنے کہاکہ متعلقہ انتظامیہ اور ہسپتالوں کو ہدایت ہے کہ تمام زخمیوں کو بروقت، بہترین اور بلا تاخیر طبی سہولیات فراہم کی جائیں، اور زخمیوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…