بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

توہین مذہب کیس میں اینکر ریحان طارق کی ضمانت منظور

datetime 21  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) لاہور کی سیشن عدالت نے مبینہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار اینکر پرسن ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے

انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے کی، جس دوران ملزم کی جانب سے وکیل میاں داؤد عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کے حق میں دلائل دیے۔دورانِ سماعت دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں درج الزامات سے کسی قابلِ سزا جرم کا واضح ثبوت سامنے نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ قوانین کے تحت مذہبی تاریخ سے متعلق سوالات پر مبنی کسی انٹرویو کا انعقاد بذاتِ خود قابلِ تعزیر جرم نہیں ہے۔وکیل نے مزید استدلال کیا کہ مقدمے میں شامل تمام دفعات ضابطہ فوجداری کے مطابق قابلِ ضمانت نوعیت کی ہیں، اس لیے ملزم کو ضمانت دینا قانونی اور آئینی حق ہے۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔یاد رہے کہ ریحان طارق کے خلاف ایک متنازع انٹرویو کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے مقدمہ درج کیا تھا، جس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…