اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور پھر ایران کی جوابی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
اس تناؤ کے باعث کم از کم آٹھ ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس سے بین الاقوامی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق اس غیر معمولی پیش رفت نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی آمد و رفت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی ایئرلائنز کو نہ صرف پروازیں منسوخ یا معطل کرنا پڑ رہی ہیں بلکہ متعدد پروازوں کا رخ بھی متبادل راستوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
جن ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کی ہیں ان میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔ امارات ایئرلائن نے دبئی سے چلنے والی کئی پروازیں روک دی ہیں جبکہ فلائی دبئی کی سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ قطر ایئرویز نے عارضی طور پر آپریشن معطل کیا، اومان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں بند کر دیں اور کویت ایئرویز نے ایران جانے والی تمام پروازیں روک دیں۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح ترک ایئرلائن اور دیگر ترک کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے مختلف روٹس پر پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
یورپ کی بڑی فضائی کمپنیوں، جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ اور نیدرلینڈز کی ایئرلائنز شامل ہیں، نے تل ابیب، دبئی، بیروت اور ریاض سمیت متعدد شہروں کے لیے اپنی سروسز منسوخ یا عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ کچھ طیاروں کو دورانِ پرواز واپس بلانا پڑا۔ایئر انڈیا نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں روک دی ہیں اور دہلی سے تل ابیب جانے والی ایک پرواز کا راستہ تبدیل کیا گیا۔ جاپان ایئرلائنز نے ٹوکیو سے دوحہ کی فلائٹ منسوخ کر دی، جبکہ دیگر بھارتی ایئرلائنز نے بھی ممکنہ تاخیر اور سفری خلل سے متعلق مسافروں کو خبردار کیا ہے۔



















































