اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

غصے سے کسی کا دل دکھا تو معذرت ،مگر غصہ جائز ، ذاتی معالج کی ڈیمانڈ پوری نہ کراسکے،علی امین گنڈاپور

datetime 20  فروری‬‮  2026 |

پشارو(این این آئی)سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں،

مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔اپنے ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عمران خان کی آنکھ اورصحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرارہیں جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اورہرطرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے،جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی لیکن افسوس ہے آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے،

اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے، ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگرمسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے۔علی امین نے کہاکہ مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…